سیمسنز گروپ آف کمپنیز کے سربراہ محمد آصف جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ہم خیبر پختونخوا کو دنیا میں ’’ٹیررازم نہیں بلکہ ٹورازم‘‘ کا داعی بنا کر پیش کر رہے ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا کی سرزمین پر رہنے والے خوش اخلاق اور مہمان نواز ہیں ،اس وجہ سے ہماری کوشش رہی ہے کہ خیبر پختونخوا کو’’ٹیررازم نہیں ٹورازم‘‘ کی حیثیت سے سامنے لائیں
خیبر پختونخوا کی سیاحت کو ’’ٹیررازم نہیں ٹورازم‘‘ کی حیثیت سے دنیا میں متعارف کرایا، آصف جاوید چوہدری
پشاور۔ 05 جون (اے پی پی):سیمسنز گروپ آف کمپنیز کے سربراہ محمد آصف جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ہم خیبر پختونخوا کو دنیا میں ’’ٹیررازم نہیں بلکہ ٹورازم‘‘ کا داعی بنا کر پیش کر رہے ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا کی سرزمین پر رہنے والے خوش اخلاق اور مہمان نواز ہیں ،اس وجہ سے ہماری کوشش رہی ہے کہ خیبر پختونخوا کو’’ٹیررازم نہیں ٹورازم‘‘ کی حیثیت سے سامنے لائیں اور اس میں ہم کافی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں جس کی زندہ مثال سال 2025 میں دنیا بھر سے نو ہزار سیاحوں نے سوات اور مالم جبہ کا رخ کیا اور دنیا کے بہترین قدرتی نظارے انجوائے کیے اور افورڈیبل ٹورزم کے لطف اٹھائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز پشاور پریس کلب کے ’’میٹ دی پریس‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔آصف جاوید چوہدری نے کہا کہ ہم نے تباہ حال سوات اور مالم جبہ کو محنت کر کے دنیا کے سامنے ٹورازم کے لیے پیش کر دیا ہے ،جس سے ملک کو ریونیو حاصل ہو ا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں خیبرپختونخوا کی سیاحت کا بڑا کردار ہے، 2025 میں ایک کروڑ 24 لاکھ لوگ سوات سیاحت کےلئے آئے ،جس میں 9 ہزار سے زیادہ سیاح بیرون ملک سے سوات کے پر فضاء نظارے دیکھنے کےلئے آئے۔
محمد آصف جاوید چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹورازم کے فروغ کےلئے کام کرنا صوبے اور ملک کےلئے خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مالم جبہ میں انٹرنیشنل لیول کا ہوٹل بنایا اور ایڈونچر سپورٹس کا ٹرینڈ متعارف کروایا،ہم چاہتے ہیں یہاں کے لوگ اپنی استطاعت کے مطابق سہولت کا فائدہ اٹھائیں۔ ایک سوال کے جواب میں محمد آصف جاوید چوہدری نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کےلئے اپنا کردار ادا کرے،سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جائے، صحت اور ٹورازم سے متعلق سہولیات فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سڑکوں سے برف کو ہٹانے کےلئے جدید مشینری اور صحت سے متعلق بین الاقوامی سطح کی سہولت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سوات میں ٹورازم زون بنائے تاکہ لوگ وہاں انویسٹمنٹ کریں،ہماری کوشش رہی ہے کہ مقامی آبادی کے لوگوں کو ٹورازم کے شعبے میں روزگار فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سوات اور مالم جبہ کی خوبصورتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی درخت نہیں کاٹا اور نہ ہم نے قدرتی نظاروں کو چھیڑا اور جہاں بھی درخت آئے ہم نے وہاں اپنا لے آؤٹ چینج کیا تاکہ قدرتی حسن قائم و دائم رہے اور آنے والے سیاح اس قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سیاحوں کی بہتری اور تکالیف کو مد نظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی سروسز ریسکیو سروسز ہیلتھ سروسز اور ڈاکٹرز کا انتظام کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ ٹورزم کے سلسلے میں سڑکوں پر توجہ دے۔









