دبئی ۔7جنوری (اے پی پی):دبئی کو عالمی فٹبال ایوارڈز کے نئے مرکز کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، جہاں رواں برس سے فیفا بیسٹ ایوارڈز کی میزبانی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا اور دبئی سپورٹس کونسل (ڈی ایس سی) کے درمیان ورلڈ سپورٹس سمٹ کے موقع پر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)پر دستخط کر دئیے گئے ہیں۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق یہ اعلان دبئی …
دبئی میں فیفا بیسٹ ایوارڈز کے انعقاد کا معاہدہ طے پاگیا، عالمی فٹبال کا نیا مرکز بننے کی جانب اہم قدم

مزید خبریں
دبئی ۔7جنوری (اے پی پی):دبئی کو عالمی فٹبال ایوارڈز کے نئے مرکز کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، جہاں رواں برس سے فیفا بیسٹ ایوارڈز کی میزبانی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا اور دبئی سپورٹس کونسل (ڈی ایس سی) کے درمیان ورلڈ سپورٹس سمٹ کے موقع پر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)پر دستخط کر دئیے گئے ہیں۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق یہ اعلان دبئی کے ولی عہد، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم کی موجودگی میں کیا گیا، جہاں فیفا صدر جیانی انفانٹینو اور دبئی سپورٹس کونسل کے چیئرمین شیخ منصور بن محمد بن راشد آل مکتوم نے دبئی میں سالانہ عالمی فٹبال ایوارڈز کے اجرا کا باضابطہ اعلان کیا۔
معاہدے کے تحت 2026 سے دبئی واحد شہر ہو گا جہاں فیفا کی سرکاری سالانہ ایوارڈز تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں دنیا بھر سے فٹبال کے ممتاز کھلاڑی، کوچز، ٹیمیں اور بااثر شخصیات شرکت کریں گی۔ اس تقریب میں گزشتہ سال کی بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں، ٹیموں اور فٹبال سے وابستہ نمایاں خدمات کو سراہا جائے گا۔فیفا صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ دبئی کے ساتھ شراکت داری پر انہیں بے حد خوشی ہے، کیونکہ یہ شہر فٹبال سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایوارڈز محض ایک تقریب نہیں ہوں گے بلکہ فٹبال کو جدید اور منفرد انداز میں منانے کا عالمی پلیٹ فارم ثابت ہوں گے۔
دبئی سپورٹس کونسل کے چیئرمین شیخ منصور نے اس معاہدے کو دبئی اور فیفا کے مضبوط تعلقات کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت عالمی فٹبال میں دبئی کے بڑھتے ہوئے کردار اور کھیل کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی عالمی کھیلوں خصوصاً فٹبال کی ترقی کے لیے تمام ضروری صلاحیتوں کا حامل ہے۔ایوارڈز کی مختلف کیٹیگریز، نامزدگی اور ووٹنگ کے طریقہ کار اور تقریب کی تاریخوں سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، تاہم اس معاہدے کو عالمی فٹبال کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔








