اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):قومی ہیرو حیدر علی نے دبئی میں منعقدہ ورلڈ پیرا ایتھلیٹکس گراں پری کے ڈسکس تھرو مقابلے میں گولڈ میڈل جیت کر ایک بار پھر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔حیدر علی نے 54.71 میٹر کی شاندار تھرو پھینک کر پوڈیم پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس عالمی مقابلے میں بھارت سمیت 54 ممالک کے نامور ایتھلیٹس شریک تھے، جنہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے حیدر …
دبئی ورلڈ پیرا ایتھلیٹکس: حیدر علی نے گولڈ میڈل جیت کر دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):قومی ہیرو حیدر علی نے دبئی میں منعقدہ ورلڈ پیرا ایتھلیٹکس گراں پری کے ڈسکس تھرو مقابلے میں گولڈ میڈل جیت کر ایک بار پھر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔حیدر علی نے 54.71 میٹر کی شاندار تھرو پھینک کر پوڈیم پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس عالمی مقابلے میں بھارت سمیت 54 ممالک کے نامور ایتھلیٹس شریک تھے، جنہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے حیدر علی نے سبز ہلالی پرچم کی بلندی کو یقینی بنایا۔دبئی سے گفتگو کرتے ہوئے حیدر علی نے جذباتی انداز میں اپنی کامیابی کو سخت محنت اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "میں نے اس چیمپئن شپ کے لیے انتھک محنت کی تھی اور میں رب العزت کا شکر گزار ہوں کہ میری کوششیں رنگ لائیں اور متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر پاکستان کا جھنڈا سب سے بلند ہوا۔ میں اللہ تعالیٰ اور اپنی پوری قوم کا مشکور ہوں جن کی دعاؤں کے صدقے میری لگن کو سونے کے تمغے کا صلہ ملا۔قومی ایتھلیٹ نے اپنی کامیابی میں معاون اداروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میری یہ فتح ‘ایکٹیوٹ’ اور اس کے سی ای او، آر ڈی رضوان آفتاب احمد کی بھرپور اور ہمہ جہت سپورٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیرس اولمپکس سے لے کر دبئی ورلڈ گراں پری تک، ان کے غیر متزلزل عزم، بہترین طبی نگہداشت، متوازن غذا اور مالی استحکام کی بدولت میں نے اپنی تمام تر توجہ صرف گولڈ میڈل پر مرکوز رکھی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کے بھی بے حد مشکور ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کا موقع فراہم کیا۔یہ سنہری کامیابی حیدر علی کے پاکستان کے کامیاب ترین پیرا ایتھلیٹ ہونے کے اعزاز کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ وہ 14 فروری کو گولڈ میڈل کے ساتھ وطن واپس پہنچیں گے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا۔ گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ اور کھیلوں کے شائقین اپنے اس ہیرو کے شایانِ شان استقبال کے لیے ابھی سے تیاریاں کر رہے ہیں جس نے ثابت کر دیا کہ جسمانی معذوری عالمی تسخیر کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔








