لاہور۔8 اپریل(اے پی پی )تربیلا ، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں بدھ کے روز پانی کی آمد و اخراج ، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہائو کی صورت حال اس طرح رہی۔دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 24700کیوسک اور اخرج 5000کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 23500کیوسک اور اخراج 23500کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی …
دریائوں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

مزید خبریں
لاہور۔8 اپریل(اے پی پی )تربیلا ، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں بدھ کے روز پانی کی آمد و اخراج ، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہائو کی صورت حال اس طرح رہی۔دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 24700کیوسک اور اخرج 5000کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 23500کیوسک اور اخراج 23500کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد38800 کیوسک اور اخراج31300 کیوسک،دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد22400کیوسک اور اخراج16000 کیوسک ۔ جناح بیراج میں پانی کی آمد41900 کیوسک اور اخراج0 3690کیوسک،چشمہ بیراج میں پانی کی آمد34500 کیوسک اوراخراج 40200 کیوسک، تونسہ بیراج میں پانی کی آمد37700 کیوسک اور اخراج 37600 کیوسک، پنجند میں پانی کی آمد48000 کیوسک اور اخراج 44300کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد 73300کیوسک اور اخراج 73300 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد75800کیوسک اور اخراج51100کیوسک کوٹری بیراج میں پانی کی آمد23400 کیوسک اور اخراج 9700 کیوسک ۔ تربیلا ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح1473.09 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورآج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.149 ملین ایکڑ فٹ۔ منگلا ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1194.40 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 3.992 ملین ایکڑ فٹ۔ چشمہ ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 647.00 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.186 ملین ایکڑ فٹ۔تربیلا، جناح اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخراج 24گھنٹے کے اوسط بہائو کی صورت میں ہے ۔







