`اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے دریائوں کے کناروں پر تجاوزات میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجاوزات کی وجہ سے سیلاب بہت زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے، تجاوزات کے ذمہ داروں کا تعین اور ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، دریائوں کے کنارے غیر قانونی طور پر آباد افراد کو دوسرے مقامات پر …
دریائوں کے کناروں پر غیرقانونی آبادیوں کی منتقلی کے لئے جامع حکمت عملی اپنائی جائے، تجاوزات کے ذمہ داروں کا تعین اور ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل
`اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے دریائوں کے کناروں پر تجاوزات میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجاوزات کی وجہ سے سیلاب بہت زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے، تجاوزات کے ذمہ داروں کا تعین اور ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، دریائوں کے کنارے غیر قانونی طور پر آباد افراد کو دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کے لئے جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں چیئرمین سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وزارت آبی وسائل ، فیڈرل فلڈ کمیشن ، ارسا اور دیگر متعلقہ صوبائی افسران نے شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ تجاوزات کی وجہ سے جب بھی بارشیں ہوتی ہیں بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے اور پانی کے قدرتی راستوں پر تجاوزات ختم ہونی چاہئیں۔یہ تجاوزات راتوں رات نہیں قائم نہیں ہوئیں ان کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہئے ۔ جوائنٹ سیکرٹری آبی وسائل سید مہر علی شاہ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کی طرف چھوڑے جانے والے پانی کے اعدادو شمار دیئے جارہے ہیں اور آج صبح دریائے ستلج میں پاکستان کی طرف پانی کا بہائو ایک لاکھ کیوسک تھا ۔ تربیلا ڈیم اپنی مکمل گنجائش کے مطابق بھر چکا ہے۔ سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد تعاون پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ہونا چاہئے باضابطہ ذرائع کے ذریعہ آپس میں رابطہ ہوتا رہتا ہے ۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ دریائے ستلج دریائے سندھ کی طرح بڑادریا ہے اس کے رستے میں تین بیراج ہیں، یہ دریا بہت عرصے سے خشک پڑا ہے۔ چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن احمد کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ 2011-12-14-15 ء کے سیلاب میں 4کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے۔ پنجاب کے ریور ایکٹ کے تحت لوگوں کی آباد کاری کا طریقہ کار موجود ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دریائوں کے کنارے زرعی کاشتکاری بھی غیر قانونی ہے ، کمیٹی نے ہدایت کی کہ تجاوزات کے خاتمے کے لئے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا چاہئے۔ قائمہ کمیٹی نے میرانی ڈیم متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا اور آئندہ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان ، سیکرٹری آبپاشی بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر کیچ کو طلب کرلیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں خزانہ ڈیم کا مقام تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے اس سلسلے میں متبادل ڈیم کے لئے فنڈز سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مختص کئے جائیں گے۔









