دریائے چناب پر بھارتی آبی جارحیت سےلاکھوں افراد ، آ بی حیات اور زراعت ، خطرے میں ہے۔ دریائے چناب پاکستان کا اہم ترین دریا ہے جو سیالکوٹ کے علاقے بجوات کے موضع پاپین کے مقام پر دریائے توی کےساتھ مل کر مرالہ کے مقام اپنی تندو تیز موجوں کے ساتھ موجود ہوتا تھا جو صدیوں سے زراعت، ماہی گیری، حیاتیاتی تنوع لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ چلا آ …
دریائے چناب پر بھارتی آبی جارحیت سےلاکھوں افراد ، آ بی حیات ، اور زراعت خطرے میں ہیں،ماہرین

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 10 جون (اے پی پی):دریائے چناب پر بھارتی آبی جارحیت سےلاکھوں افراد ، آ بی حیات اور زراعت ، خطرے میں ہے۔ دریائے چناب پاکستان کا اہم ترین دریا ہے جو سیالکوٹ کے علاقے بجوات کے موضع پاپین کے مقام پر دریائے توی کےساتھ مل کر مرالہ کے مقام اپنی تندو تیز موجوں کے ساتھ موجود ہوتا تھا جو صدیوں سے زراعت، ماہی گیری، حیاتیاتی تنوع لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ چلا آ رہا ہے۔ سیالکوٹ ہیڈ مرالہ، وزیرآباد، گجرات دریائے چناب کے کناروں پر آباد دیگر علاقوں کی معاشی و سماجی زندگی کا اس دریا سے گہرا تعلق ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے آبی دہشت گردی کے بل بوتے پر دریائے چناب کے بہاؤ میں بار بار تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات کے اثرات نے اس عظیم دریا کے مستقبل کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی کمی یا اچانک اضافے کے باعث نہ صرف زرعی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ آبی حیات اور ماہی گیری کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ دریائے چناب مچھلیوں کی درجنوں اقسام کا مسکن ہے جن میں رہو، کتلا، مرگل، موری، تھیلا، سلور کارپ، گراس کارپ، کامن کارپ، بگ ہیڈ کارپ، سنگھارا، سول، گجر، ٹینگرا، پلہ، مہاشیر، ڈوگرا، بچوا، چیلہ، پٹاسی، شنگ، بامی، کالا بانس، سفید بانس، کھگا، پھلئی، ملی، گگٹ، لانچی، چنہ، کال باسو، والگو، پنگاس اور گونچ سمیت متعدد اقسام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جھینگے، دریائی کچھوے، آبی صدف، گھونگے، میٹھے پانی کے کیکڑے دیگر آبی جاندار بھی اس دریا کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں مناسب مقدار میں پانی برقرار رہنے سے مچھلیوں کی افزائش، آبی پرندوں کی بقا اور قدرتی ماحولیاتی توازن قائم رہتا ہے۔
پانی کی سطح کم ہونے سے مچھلیوں کے ذخائر متاثر ہوتے ہیں، آبی حیات کے مساکن سکڑ جاتے ہیں اور ماہی گیروں کے روزگار کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ دریائے چناب سے وابستہ ہزاروں خاندان نسل در نسل ماہی گیری کے پیشے سے منسلک ہیں اور ان کی معاشی بقا کا دارومدار اسی دریا پر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے تاکہ زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق اگر دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ سے متعلق مسائل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اس کے اثرات نہ صرف آبی حیات بلکہ لاکھوں انسانوں کے روزگار،مسکن مقامی معیشت قدرتی وسائل پر بھی مرتب ہوں گے۔
دریائے چناب محض پانی کا ایک دھارا نہیں بلکہ پنجاب کے وسیع علاقے کی معاشی، سماجی ماحولیاتی زندگی کی علامت ہے۔ اس دریا کا تحفظ دراصل آنے والی نسلوں کے مستقبل، قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ آبی وسائل کے دانشمندانہ استعمال، آلودگی کے خاتمے، آبی حیات کے تحفظ بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے ہی دریائے چناب کی بقا اور اس سے وابستہ لاکھوں انسانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔








