دستاویزی نوعیت کے مقدمات میں شریک ملزمان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ جب کسی فوجداری مقدمے کی بنیاد دستاویزی شواہد پر ہو، تفتیش مکمل ہو چکی ہو اور شریک ملزمان پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکے ہوں تو ملزم کے کردار کے تعین کے لیے مزید عدالتی جانچ درکار ہوتی ہے جس سے معاملہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت "مزید تفتیش” کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

اسلام آباد۔31مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ جب کسی فوجداری مقدمے کی بنیاد دستاویزی شواہد پر ہو، تفتیش مکمل ہو چکی ہو اور شریک ملزمان پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکے ہوں تو ملزم کے کردار کے تعین کے لیے مزید عدالتی جانچ درکار ہوتی ہے جس سے معاملہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت "مزید تفتیش” کے زمرے میں آ سکتا ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور خرد برد سے متعلق مقدمے میں نامزد ملزم محمد عثمان یوسف کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں اور اسی مالیت کے ایک ضامن کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔

عدالت کے روبرو درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے، تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات تفتیشی ادارے کی تحویل میں ہیں اور درخواست گزار سے مزید کسی قسم کی برآمدگی یا تفتیش درکار نہیں۔ وکیل نے نشاندہی کی کہ اسی مقدمے میں نامزد دیگر شریک ملزمان، جن کا کردار انتظامی لحاظ سے مساوی یا بعض صورتوں میں زیادہ اہم تھا، پہلے ہی عدالتوں سے ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اور شکایت کنندہ ادارے کی جانب سے ضمانت کی مخالفت کی گئی۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقدمہ قومی خزانے کو مبینہ طور پر بھاری مالی نقصان پہنچانے سے متعلق ہے اور درخواست گزار اس مبینہ بے ضابطگی میں اہم کردار کا حامل رہا ہے، اس لیے اسے ضمانت کی رعایت نہیں دی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمہ بنیادی طور پر دستاویزی نوعیت کا ہے اور اس میں عائد الزامات کئی سال پر محیط انتظامی اور مالی معاملات سے متعلق ہیں۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ بادی النظر میں یہ واضح کرنے میں ناکام رہا کہ درخواست گزار کا کردار پہلے سے ضمانت حاصل کرنے والے شریک ملزمان کے مقابلے میں کس طرح مختلف یا زیادہ سنگین ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے اختیارات، ذمہ داریوں اور مبینہ کردار کا حتمی تعین ٹرائل کے دوران شہادتوں اور ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ اس مرحلے پر دستیاب مواد کی روشنی میں معاملہ مزید تفتیش کا متقاضی معلوم ہوتا ہے، جس کے باعث درخواست گزار ضمانت کا حق دار ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت کے مرحلے پر شواہد کا تفصیلی جائزہ لینا یا مقدمے کے میرٹ پر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔ لہٰذا درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا جاتا ہے اور درخواست گزار کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں اور اسی مالیت کے ایک ضامن کے عوض بعد از گرفتاری ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید واضح کیا کہ اس حکم میں کی گئی تمام آبزرویشنز ابتدائی نوعیت کی ہیں اور ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر آزادانہ طور پر کرے گی۔