اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی) پاکستان نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی تبدیلی کرنے کاکوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہوگا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بھارتی آئین کی شق35A کی منسوخی کی کوششوں …
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی) پاکستان نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی تبدیلی کرنے کاکوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہوگا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بھارتی آئین کی شق35A کی منسوخی کی کوششوں کی مذمت کرتا ہے کیونکہ ان کوششوں کا واضح مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی سپریم کورٹ جلد بھارتی آئین کی شق 35A کو منسوخ کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرے گی۔ ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہوگا جس میں متنازعہ علاقے میں تبدیلیاں کرنا ممنوع ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال بھی انتہائی پریشان کن ہے۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے کئی علاقوں میں کشمیریوں کے خلاف انتقامی حملوں کے تناظر میں طاقت کے استعمال میں اضافے، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور سینئر کشمیری رہنماﺅں کو قید وبند کی صعوبتوں سمیت مزید کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اضافی نیم فوجی دستوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ہسپتالوں اور ایندھن اور اناج کی فروخت کے بارے میں احکامات سے شدید خوف وہراس کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس صورتحال کو فوری طور پر واپس کرنے اورحالات معمول پر لانے کی فوری ضرورت ہے ۔ڈاکٹر محمد فیصل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت پر مزید کشیدگی روکنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کیلئے دباﺅ ڈالے۔








