فیصل آباد۔ 06 مئی (اے پی پی):دنیابھر میں پاکستانی ترشاوہ پھلوں، امرود،آڑواور سیب کے علاوہ مختلف سبزیوں بھنڈی توری، کریلہ، گھیا توری، کدو اور خربوزہ کی مانگ میں اضافہ ہوگیاہے جبکہ بعداز برداشت پھلوں و سبزیوں کی مارکیٹنگ کے عوامل کو سائنسی انداز میں سرانجام دےکر مزید اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل کیاجاسکتاہے ۔مقامی زرعی تحقیقی ادارہ فیصل آباد کے ماہرین انٹومالوجیکل ریسرچ نے بتایا کہ مختلف پھلوں اور سبزیوں …
دنیابھر میں پاکستانی ترشاوہ پھلوں، امرود،آڑواور سیب کے علاوہ مختلف سبزیوں کی مانگ میں اضافہ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 06 مئی (اے پی پی):دنیابھر میں پاکستانی ترشاوہ پھلوں، امرود،آڑواور سیب کے علاوہ مختلف سبزیوں بھنڈی توری، کریلہ، گھیا توری، کدو اور خربوزہ کی مانگ میں اضافہ ہوگیاہے جبکہ بعداز برداشت پھلوں و سبزیوں کی مارکیٹنگ کے عوامل کو سائنسی انداز میں سرانجام دےکر مزید اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل کیاجاسکتاہے ۔مقامی زرعی تحقیقی ادارہ فیصل آباد کے ماہرین انٹومالوجیکل ریسرچ نے بتایا کہ مختلف پھلوں اور سبزیوں پر پھلوں کی مکھی کا حملہ انتہائی توجہ طلب ہے
کیونکہ ان کے حملہ سے مختلف پھلوں اور سبزیوں میں 15سے40فیصد پیداوار متاثر ہوسکتی ہے جس سے برآمدات میں کمی ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں تقریباً 24اقسام کی پھل کی مکھیاں موجود ہیں جن میں سے 7اقسام پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق انٹر نیشنل مارکیٹ میں پھلوں اور سبزیوں کے معیار کا اندازہ زہروں اور کیڑوں سے پاک ہونے سے لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ جاپان، کوریا، ایران، فرانس، برطانیہ، امریکا، مشرق وسطیٰ،خلیجی اورمغربی ممالک نے پاکستانی پھلوں اور سبزیوں کی درآمدات شروع کردی ہیں لیکن یہ ممالک پھل کی مکھی سے پاک اشیاکا مطالبہ کرتے ہیں
لہٰذاان وجوہات کی بنا پر پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں اضافہ کیلئے گلوبل گیپ سرٹیفکیشن پروگرام شروع کیاگیا ہے جس کا بنیادی مقصد پھلوں اورسبزیوں کومختلف بیماریوں اور کیڑوں کے علاوہ زہروں کے اثرات سے محفوظ بنانا ہے۔انہوں نے بتایاکہ محکمہ زراعت پنجاب نے پھلوں اور سبزیوں کے پھل کی مکھی کے تدارک بارے ایک منصوبہ کے تحت ریسرچ اور ایکسٹینشن شعبہ جات کے زرعی ماہرین نے مشترکہ طورپر پھل کی مکھی کے مربوط انسداد کی مہم شروع کردی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پھل کی مکھیوں کے مربوط انسداد کیلئے کاشتکار اور باغبان اپنے کھیتوں اور باغوں کی صفائی پر بھرپور توجہ دیں اوران مکھیوں کے حملہ سے متاثرہ گرے ہوئے پھلوں اور سبزیوں کو اکٹھا کرکے گہرے گڑھوں میں دفن کردیں یا پلاسٹک لفافوں میں اکٹھا کرکے دھوپ میں رکھیں تاکہ اس سے پھل کی مکھی کے لاروے اور پیوپے تلف ہوجائیں۔انہوں نے کہاکہ صفائی کے عمل سے 80فیصد تک پھل کی مکھیوں کا تدارک ہوجاتا ہے لیکن باغبان پھل کی نر مکھی کو کنٹرول کرنے کیلئے کھیتوں میں سیکس فیرامون کے جنسی پھندے بھی لگائیں۔








