اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے دنیا کے اربوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوں، ہم آزادی اظہار رائے کا احترام کرتے ہیں تاہم کسی کو مذاہب اور مذہبی مقدسات کو آزادی اظہار رائے کے نام پر پامال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو کسی ایجنڈے کے تحت ایسی ناپاک جسارت کر رہے …
دنیا کے اربوں لوگوں کے جذبات مجروح کرنے والے اقدامات سے گریز کیا جائے ، کسی کو مذاہب اور مذہبی مقدسات کو آزادی اظہار رائے کے نام پر پامال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، وفاقی وزیر مذہبی امور

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے دنیا کے اربوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوں، ہم آزادی اظہار رائے کا احترام کرتے ہیں تاہم کسی کو مذاہب اور مذہبی مقدسات کو آزادی اظہار رائے کے نام پر پامال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو کسی ایجنڈے کے تحت ایسی ناپاک جسارت کر رہے ہیں اس سے انسانیت کا رشتہ کمزور ہو گا اور دنیا بدامنی کی طرف بڑھے گی۔ بدھ کو یہاں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے عنوان سے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فکری نشست کے منتظمین کا شکرگزار ہوں، امید ہے کہ یہ کانفرنس مثبت اور اچھی تبدیلیوں کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مولانا عبدالخبیر آزاد کےبین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالہ سے کردار کو سراہا اور کہا کہ یورپی یونین کی سفیر اور ان کی ٹیم کے بھی شکر گزار ہیں، یہ امن کی نیک خواہش کا اظہار، امن کا پیغام اور ساری انسانیت کیلئے سلامتی کا بیانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانیت کے رشتے سے بھائی بہن ضرور ہیں، انسانیت مذہب سے بھی مقدم رشتہ ہے کیونکہ انسانیت پہلے ہے تو مذہب کا نمبر بعد میں آتا ہے۔ اس کانفرنس کا امن کا پیغام نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے جتنی بھی محنت اور کوشش کی جائے، کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری انسانیت ایک ہی کشتی میں سوار ہے، اگر کشتی کو نقصان پہنچا تو سب کو خطرہ ہو گا۔ انہوں نے مثال دی کہ آج کورونا سے ساری انسانیت کو خطرہ ہے اس لئے دنیا مل کر اس کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، ہماری ضروریات بھی مشترکہ ہیں، ہمیں جن چیزوں پر اختلافات ہیں انہیں مل بیٹھ کر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی ویکسین جب دستیاب ہو جائے گی اور انسانیت کو جب اس وبا سے نجات مل جائے گی تو کورونا کے بعد نئے دور کا آغاز ہو گا، اس دور کے لوگوں کو مادیت، علاقائیت کی بجائے بنیادی انسانی اقدار پر توجہ دینا ہو گی، اس حوالہ سے مذہبی قیادت کو یہ بات لوگوں کو بتانا ہو گی کہ تمام مذاہب کا احترام کیا ہے، مذہبی رہنمائوں کی طرف سے اس حوالہ سے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گول میز کانفرنس کے اعلامیہ کو کیسے آگے لے کر جانا ہے اس بارے میں سوچنا ہو گا، اس پیغام کو مساجد، امام بارگاہوں، گوردواروں اور چرچز میں پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نبی پاک کے ساتھ ساتھ ہر نبی اور مذہبی شخصیت کے احترام کی بات کرتے ہیں، جو کسی ایجنڈے کے تحت اس طرح کی ناپاک جسارت کر رہے ہیں اس سے انسانیت کا رشتہ کمزور ہو گا، ایسی کوششوں سے اجتناب کیا جائے، سیاستدان سیاست کریں مگر اس میں مذہب کو استعمال نہ کریں، ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے کہ جس سے دنیا کے اربوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوں، ہم آزادی اظہار رائے کا احترام کرتے ہیں مگر اس سے زیادہ مذاہب اور مقدسات کا احترام کرتے ہیں، آزادی اظہار رائے کے نام پر دینی مقدسات کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بحیثیت قانونی اور معاشرتی اقدار کے لحاظ سے بڑے دل کا معاشرہ ہے، اس کی مثال اس خطہ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تلخی اور چپقلش کے باوجود اس کے باشندوں کو یہاں روزانہ پانچ ہزار شہریوں کو مذہبی رسومات کیلئے سہولیات کی فراہمی اور اقدامات کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی، اس حوالہ سے مزید اقدامات اٹھانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزارت مذہبی امور بھی امن کی ان کوششوں میں شانہ بشانہ رہے گی۔








