دنیا کے قدرتی وسائل کو اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے استعمال ہونا چاہیے، بھارت کی آبی دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توانائی، اہم معدنیات اور سلامتی‘‘ کے موضوع پر بحث

اقوام متحدہ۔6مارچ (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ دنیا کے قدرتی وسائل کو اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ دباؤ یا تنازع کا ذریعہ بننا چاہیے کیونکہ اہم معدنیات اب ڈیجیٹل معیشت اور توانائی کی منتقلی کو طاقت دینے والی ٹیکنالوجیز کی بنیاد بن چکی ہیں، بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین …

اقوام متحدہ۔6مارچ (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ دنیا کے قدرتی وسائل کو اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ دباؤ یا تنازع کا ذریعہ بننا چاہیے کیونکہ اہم معدنیات اب ڈیجیٹل معیشت اور توانائی کی منتقلی کو طاقت دینے والی ٹیکنالوجیز کی بنیاد بن چکی ہیں، بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی ہے ۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے 15 رکنی سلامتی کونسل کے ایجنڈا آئٹم ’’بین الاقوامی امن اور سلامتی کی بحالی‘‘کے تحت ’’ توانائی، اہم معدنیات اور سلامتی‘‘ کے موضوع پر ہونے والی بحث کے دوران کہا کہ قدرتی وسائل کے حصول کی دوڑ اور اس کا تنازعات سے تعلق کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مقابلے کو ذمہ داری سے نہ سنبھالا گیا تو یہ سپلائی چین کو متاثر کر سکتا ہے، کشیدگی بڑھا سکتا ہے، خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ آبی وسائل زندگی، پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیےناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ دریائوں انحصار کرنے والے زیریں ممالک کے لیے اس لائف لائن کو روکنے کے مترادف ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا باعث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے آبی دہشت گردی کا سامنا ہے کیونکہ بھارت نے یکطرفہ اور غیرقانونی طور پر 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کی ہے، جو بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی ہے۔ا نہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے ، جو اگست 2025 کے ثالثی عدالت کے فیصلے کے مطابق اب بھی نافذ العمل ہے۔

یہ اجلاس امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کی صدارت میں ہوا کیونکہ مارچ کے لیے امریکا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ جہاں معدنی وسائل کمزور حکمرانی، غربت اور بیرونی مداخلت سے جڑ جاتے ہیں وہاں عدم استحکام کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر قانونی کان کنی، سمگلنگ کے نیٹ ورک اور غیر شفاف مالیاتی بہاؤ مسلح تنازعات اور تشدد کو بڑھا سکتے ہیں اور ریاستی اداروں کو کمزور کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اہم معدنیات کی پیداوار اور تجارت میں قومی ملکیت، ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ویلیو ایڈیشن کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے تاکہ یہ ممالک صرف خام مال برآمد کرنے والے نہ رہیں بلکہ پروسیسنگ اور ریفائننگ کے مراکز بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی کو محفوظ بنانے کی کوششیں بلاک پالیٹکس معاشی دباؤ یا امتیازی انتظامات کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہئیں تاکہ سپلائی چین میں تنوع کو جغرافیائی سیاسی محاصرہ کرنے کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

عالمی منڈیوں کی تقسیم توانائی کی منتقلی کے اہداف اور اجتماعی سلامتی دونوں کو نقصان پہنچائے گی۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلی کے اس دور میں توانائی اور اہم معدنیات کی حکمرانی کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ مضبوطی سے منسلک رہنا چاہیے۔

اگر ان اصولوں کے مطابق ان وسائل کا انتظام کیا جائے تو یہ پائیدار ترقی اور عالمی سطح پر مشترکہ خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان وسائل کا غلط انتظام کیا جائے یا ان کا استحصال ہو تو اس سے عدم مساوات میں اضافہ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں شدت پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

مزید خبریں