اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک پولی تھین بیگز پر پابندی کو مثال بنا کر ملک کے دیگر حصوں تک توسیع دی جائے گی، اس پابندی کو حکومتی اونر شپ حاصل ہے۔ اس حوالے سے کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت اپنی رٹ قائم رکھے …
دنیا کے 47 ممالک پلاسٹک بیگز استعمال نہیں کر رہے، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کی پریس کانفرنس
اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک پولی تھین بیگز پر پابندی کو مثال بنا کر ملک کے دیگر حصوں تک توسیع دی جائے گی، اس پابندی کو حکومتی اونر شپ حاصل ہے۔ اس حوالے سے کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت اپنی رٹ قائم رکھے گی۔ معاشرے کے تمام طبقات اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ماحول کو پلاسٹک کی مضر آلودگی سے پاک کریں گے۔ وہ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی کو پھیلنے سے روکنے کے لئے پلاسٹک پولی تھین بیگز پر پابندی عائد کی ہے۔ اس کا آغاز 14 اگست کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے کیا گیا ہے، اس مہم کو ایک مثال بنا کر ملک کے دیگر حصوں تک وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کا اعلان 6 ماہ سے زائد عرصہ پہلے کر دیا گیا تھا۔ یہ کوئی اچانک فیصلہ نہیں ہے، اس حوالے سے تاجروں کو بھی اعتماد میں لیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کے متبادل کی طرف جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کل یہاں اسلام آباد میں ایک فوڈ چین کے ساتھ پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی کے معاملہ پر مسئلہ پیدا ہوا، انہیں پہلے بھی نوٹس دیا تھا، وزارت موسمیاتی تبدیلی کے آفیسرز اپنے ذاتی کام کے لئے نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری پوری کرنے گئے تھے، ان کے ساتھ تعاون کیا جانا چاہئے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، ہر شخص جوابدہ ہے۔ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پر پابندی کے فیصلہ کی اونر شپ حکومت کے پاس ہے اور اس حوالے سے کوئی حکومت کی رٹ کو چیلنج نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر کوئی بھی اقدام فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔ ملک کو پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی سے پاک کرنے کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لئے تمام شہری حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں بھی اسی طرح کا ایک ایس آر او جاری کیا گیا تھا تاہم اس کا فرق یہی تھا کہ اس ایس آر او پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔ زرتاج گل نے کہا کہ پاکستان میں پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کا استعمال لوگوں کی عادت بن چکی ہے، اسی لئے لوگوں کو کچھ مسائل پیش آ رہے ہیں، اس عادت کو تبدیل ہونے میں وقت لگے گا۔ اس مقصد کے لئے ہم دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رویوں میں بھی تبدیلی لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر صرف پلاسٹک کے پولی تھین بیگز پر پابندی لگائی گئی ہے جبکہ دیگر مصنوعات پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ پلاسٹک کی بوتلوں اور ریپرز پر پابندی کے معاملہ کو بتدریج دیکھا جائے گا، یہ عمل رکے گا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے بھی صوبے میں پلاسٹک بیگز پر پابندی کا اعلان کیا ہے جبکہ کے پی کے اور گلگت بلتستان میں پہلے ہی اس حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ نے بھی پابندی کا اعلان کیا ہے۔









