دوحہ فورم میں وسطی اور جنوبی ایشیا ئی ممالک کے درمیان روابط کے فروغ کیلئے خصوصی سیشن کا انعقاد

دوحہ۔6دسمبر (اے پی پی):سالانہ دوحہ فورم کے تحت “ترمذ ڈائیلاگ” پر مبنی ایک خصوصی سیشن منعقد ہوا جس کا مرکز وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کا فروغ تھا۔ اس سیشن کا عنوان “علاقائی رابطوں کے ذریعے افغانستان کی تعمیرِ نو – ترمذ ڈائیلاگ”تھا۔یہ ایونٹ ازبکستان کے صدر کے ماتحت انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز (آئی ایس آر ایس) نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر کے سینٹر فار …

دوحہ۔6دسمبر (اے پی پی):سالانہ دوحہ فورم کے تحت “ترمذ ڈائیلاگ” پر مبنی ایک خصوصی سیشن منعقد ہوا جس کا مرکز وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کا فروغ تھا۔ اس سیشن کا عنوان “علاقائی رابطوں کے ذریعے افغانستان کی تعمیرِ نو – ترمذ ڈائیلاگ”تھا۔یہ ایونٹ ازبکستان کے صدر کے ماتحت انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز (آئی ایس آر ایس) نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر کے سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ ریجنل اسٹڈیز (سی آئی آر ایس) کے تعاون سے منعقد کیا۔

ہفتہ کو ازبکستان کے سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیاکہ ترمذ ڈائیلاگ مئی 2025 میں شہرِ ترمذ میں شروع کیا گیا تھاجو ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کی اس تجویز کے عملی فروغ کا مستقل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطہ مضبوط بنانا ہےیہ تجویز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 11 جولائی 2022 کی قرارداد سے بھی منظور شدہ ہے۔موجودہ جیوپولیٹیکل حالات میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے تاریخی روابط کی بحالی عملی ضرورت بن چکی ہے۔

رابطہ، تعاون، مکالمہ اور اعتماد اس اسٹریٹجک اہم خطے میں سیکیورٹی، استحکام اور پائیدار ترقی کے بنیادی عناصر ہیں۔ ان کوششوں میں افغانستان کلیدی کردار رکھتا ہے۔اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی پل ہے۔ عملی تعاون کا فروغ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنا اور افغانستان کو بین الاقوامی علاقائی منصوبوں میں شامل کرنا طویل مدتی استحکام اور پُرامن ترقی کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔یہ تمام امور آنے والے سیشن کے بنیادی نکات ہوں گے۔ شرکاء افغانستان کے کردار، علاقائی رابطوں کے فروغ اور وسیع تر علاقائی تناظر میں پائیدار سماجی و معاشی ترقی کے لیے عملی اقدامات پر گفتگو کریں گے۔سیشن کی نظامت زہرہ بابر ڈائریکٹر سی آئی آر ایس جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطرنے کی۔

گفتگو میں شامل شخصیات میں عصمت اللہ ارگاشیف صدرِ ازبکستان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان؛ الدور اریبوف ڈائریکٹر آئی ایس آر ایس، عبدالحئی قانت افغان وزارتِ خارجہ کے سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر؛ فیصل عبداللہ الہنزاب قطر کے وزیر خارجہ کے خصوصی نمائندہ؛ اور ولید زیاد پروفیسر جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر شامل تھے۔دوحہ فورم 2002 سے حکومتِ قطر کی معاونت سے منعقد ہورہا ہے اور عالمی مسائل پر بحث کے لیے ایک معتبر بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

سال 2025 میں فورم کا عنوان جسٹس اِن ایکشن، وعدوں سے عمل تک”ہے۔ اس سال فورم میں دنیا کے تقریباً 150 ممالک سے 8,000 کے قریب شرکاء کی شرکت متوقع ہے، جن میں امریکا، برطانیہ، روس، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ، بھارت، پاکستان، چین، جاپان اور کوریا کے معروف تھنک ٹینکس کے ممتاز نمائندگان اور ماہرین شامل ہیں۔