فیصل آباد۔ 01 جولائی (اے پی پی):دھان کی اچھی پیداوار کیلئے ضروری ہے کہ کاشتکار 9،9 انچ کے فاصلے پر 2،2پودے لگائیں اس طرح ایک ایکڑ میں سوراخوں کی تعداد 80ہزار اور پودوں کی تعداد ایک لاکھ 60ہزار ہو جاتی ہے۔ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمودنے کاشتکاروں کو آگاہ کیا کہ کھادوں کا بروقت استعمال بھی اشد ضروری ہے کیونکہ زنک اور بوران کی کمی چاول …
دھان کی اچھی پیداوار کیلئے ایک ایکڑ میں سوراخوں کی تعداد 80ہزار اور پودوں کی تعداد ایک لاکھ 60ہزار ہونا ضروری ہے، ڈائریکٹر زراعت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 01 جولائی (اے پی پی):دھان کی اچھی پیداوار کیلئے ضروری ہے کہ کاشتکار 9،9 انچ کے فاصلے پر 2،2پودے لگائیں اس طرح ایک ایکڑ میں سوراخوں کی تعداد 80ہزار اور پودوں کی تعداد ایک لاکھ 60ہزار ہو جاتی ہے۔ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمودنے کاشتکاروں کو آگاہ کیا کہ کھادوں کا بروقت استعمال بھی اشد ضروری ہے کیونکہ زنک اور بوران کی کمی چاول کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چاول پاکستان کی تیسری بڑی اہم ترین فصل ہے جس کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 1.6 فیصد سے بھی زائدہے نیز چائنہ ، بھارت، انڈونیشیاکے بعد پاکستان چاول پیداکرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے لہٰذا دھان کے کاشتکار چاول کی فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں کیونکہ پانی کی کمی چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ جو کاشتکارماہرین زراعت کی سفارشات پر عمل کرتے ہیں انہیں فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ حاصل ہوتاہے۔ انہوں نے کہاکہ مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈسٹاف سے بھی رابطہ کیاجاسکتاہے۔








