سمبڑیال۔ 28 جون (اے پی پی):کاشتکاروں کیلئے دھان کی فصل کو بیماریوں سے بچانے کیلئے ادویات کا استعمال بہت ضروری ہے، ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سمبڑیال ڈاکٹر افتخار احمد وڑائچ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ دھان (چاول) کی فصل کو بیماریوں سے بچانے کیلئے محکمہ زراعت کے بتائے ہوئے زہروں کا استعمال کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ …
دھان کی فصل کو بیماریوں سے بچانے کیلئے ادویات کا استعمال بہت ضروری ہے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال

مزید خبریں
سمبڑیال۔ 28 جون (اے پی پی):کاشتکاروں کیلئے دھان کی فصل کو بیماریوں سے بچانے کیلئے ادویات کا استعمال بہت ضروری ہے، ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سمبڑیال ڈاکٹر افتخار احمد وڑائچ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ دھان (چاول) کی فصل کو بیماریوں سے بچانے کیلئے محکمہ زراعت کے بتائے ہوئے زہروں کا استعمال کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکے،
انہوں نے کہا کہ دھان کی بیماریوں میں جراثیمی جھلسائو، بھبکایا بلا سٹ، تنے کی سڑن اور بران سپاٹ وغیرہ شامل ہیں، آج کل موسمی شدت کی وجہ سے جراثیمی جھلسائو زیادہ اہمیت اختیار کرچکی ہے، زمینی درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نئی نئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں ان میں دھان کا جراثیم جھلسائو بھی شامل ہے، یہ بیماری 36 سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت اور 60 فیصد سے زیادہ نمی پر جس طرف ہوا کا رخ ہو پھیلتی ہے، اس بیماری میں سورج کی شدید گرمی سے پتے جھلسنے کی وجہ سے پیدا وار بری طرح متاثر ہوتی ہیاور یہ بیماری گرم اور خشک موسم میں خصوصا غیر روایتی علاقے میں سپر باسمتی پر زیادہ آتی ہے،
اس بیماری کا مکمل انسداد تو ممکن نہیں، اس سے بچائو کے لئے علاقے کی مناسبت سے قوتِ مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں، مونجی کی اگیتی کاشت سے اجتناب کیاجائے ، کھادوں خصوصاً پوٹاش کا استعمال اس بیماری کے خلاف قوتِ برداشت پیداکرتا ہے، گوبھ سے لے کر پکنے تک وتر کا پانی لگایا جائے، حملہ شد ہ کھیت سے پانی صحت مند کھیت میں نہ جانے دیں،دھان میں پانی مسلسل ایک ہی سطح پر کھڑا نہ رکھیں بلکہ کم یا زیادہ کرتے رہیں ، ایک ہی بار زیادہ مقدار میں ڈالنے کے بجائے کھادیں تھوڑی تھوڑی کرکے ڈالی جائیں،
انہوں نے کہا کہ بیماری کے ابتدائی علاقے ظاہر ہونے پر کا پر آکسی کلورائڈ 500 گرا م فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کی جاسکتی ہے، متاثرہ کھیت کا بیج استعمال کرنے کی صورت میں بیج کو زنک سلفیٹ 2 فیصد اور بلیچنگ پوڈر کے محلول میں آدھے گھنٹے تک بھگو کر استعمال کیاجائے، اگر بیماری کو ابتدائی مرحلے پر پہچان لیا جائے تو اس بیماری کے خلاف پوڈر مکسچر بھی استعمال کیا جاسکتاہے ، اس کی تیاری کا طریقہ یہ ہے کہ ایک سو گرام فی کنال چونا اور قلمی شورے کو رات بھر کے لئے بھگو کر اگلے دن نتھار کر مکسچر تیار کرکے 15 لٹر پانی کے ساتھ سپرے کیا جائے تو فصل کو کافی حد تک بچایا جا سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ببھنکایا بلاسٹ بیماریمتبادل میزبان پودوں سے پھیلتی ہے اور موسمی حالا ت بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرم، خشک موسم اور کم پانی والے غیر روایتی علاقے میں یہ بیماری زیادہ حملہ کرتی ہے، اس بیماری میں پتوں پر آنکھ نما نشان پڑجاتے ہیں، سٹہ نکلنے کے بعد ایسے نشان دانوں پر بھی ظاہر ہوتے ہیںاور بہت سے دانے خالی رہ جاتے ہیں اس سے بچائو کے لئے اچھی قسم کے صحت مند بیج ڈالیں ، وافر پانی کابندوبست کریں اور پیمانے کے مطابق موبجی کاشت کریں تو اس کا حملہ کم ہوتا ہے۔ڈاکٹرافتخار وڑائچ نے کہا کہ زہروں پر ٹاپسن ایم 5 گرام یا سکور ایک گرام یا نٹیرو نصف گرام فی لٹر پانی میں ملا کر سپرے کی جاسکتی ہیں،ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر عموما پہلا سپر ے گوبھ کی حالت میں اور پہلاسپرے کرنے کے دو ہفتے بعد یعنی سٹہ نکلنے کے بعد دوسرا سپرے بھی کیا جاتا ہے، اس بیماری سے بچائو کے لئے روایتی علاقے کے بجائے دھان کے نئے علاقوں میں پھپھوند کش زہروں کا سپرے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھان میں بران سپاٹ بیماری دراصل کھاد اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے، اس بیماری میں پتوں اور دانے پر برائون رنگ کے بے شمار نشان پڑ جاتے ہیں، مونجی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے بچنے کیلئے شروع ہی سے متناسب کھادوں کا بندوبست کیاجائے، بیماری کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر سکور زہر ایک گرام فی لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں تواس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی بیماریوں میں سفید سٹہ نکلنے والی بیماری پچھلے سالوں کے مقابلے میں درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے آئی ہے، اس سے بچائو کے لئے ضروری ہے کہ علاقے کی مناسبت سے اقسام کی بروقت منتقلی مکمل کرلی جائے، یوریا کھاد کا استعمال پہلے پچاس یو م کے اندرمکمل کرلیا جائے، اگر پانی کی شدید قلت ہو تو مونجی کاشت نہ کیجائے ، نرسری کے مرجھائو کی بیماری صحت مند زمینوں میں کم نقصان کرتی ہے، لیکن کمزور زمینوں میں زیادہ نقصان کرتی ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ نرسری کاشت کرتے وقت فی مرلہ ایک کلو گرام ڈی اے پی کھاد ڈالی جائے ، شیتھ بلائٹ بیماری کے لئے ٹاپسن ایم اور سکور یا اس کے متبادل زہریں ملا کر سپرے کی جاسکتی ہیں،
انہوں نے کہا کہ اگر چھوٹی سٹیج پر مونجی کو چوہا نقصان پہنچارہا ہو تو پہلے دوماہ کے دوران کار ٹیپ یا پاڈان استعما ل کرنے سے چوہے بھاگ جاتے ہیں، اگر لیٹ سٹیج پر یعنی دانے لگنے پر حملہ آور ہوتو اسے مارنے کے لئے تیز کاربو فیوران یعنی اصل زہر 5 گرام فی ایکڑ بذریعہ فر ٹیگیشن استعمال کی جائے ۔ اصل زہر زیادہ تیز ہوتا ہے اس کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اسے استعمال کرنے سے پہلے محکمہ زراعت کے عملہ سے ابتدائی تربیت ضرور حاصل کی جائے۔انہوں نے کہا کہ کیمیائی انسداد سے بچائو کے لئے بیوٹا کلوریا مچیٹی800 ملی لٹر اور سن سٹار یا کوجنٹ 80 گرام دونوں زہریں کھڑے پانی میں الگ الگ شیکر بوتل کی مدد سے ایک ہی وقت میں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ اگر منتقلی کے وقت کو ئی زہر استعمال نہ کی جاسکی ہو تو جڑی بوٹیوں کا اگائو مکمل ہونے کے بعد منتقلی کے 2 ہفتے بعد نومینی 100 ملی لٹر فی ایکڑ سپرے کی جاسکتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دھان کی فصل سے جڑی بوٹیاں تلف کرنے کے لیے پنیری منتقل کرنے کے 3 سے5 دن بعد کھڑے پانی میں ڈالی جائیں اور استعمال کے دو ہفتے بعد تک کھیت میں پانی کھڑارکھاجائے ، دھان کی زہریں آبی ماحول میں ہی بہتر کام کرتی ہیں، اگر پانی خشک ہوجائے تو زہریں استعمال کرنے کے باوجود بہت سی جڑی بوٹیاں اگ آتی ہیں ،دھان میں زہریں استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مائع زہریں نرسری منتقل کرنے کے 3 سے5 5 دن بعد کھڑے پانی میں شیکر بوتل سے ڈالیں یاریت میں ملا کر چھٹہ کی کریں۔ڈاکٹر افتخار احمد وڑائچ نیکہا کہ خشک یا دانے دار زہروں کا آبی محلول بناکر کھڑے پانی میں شیکر بوتل سے ڈالا جاسکتا ہے،
انہوں نے کہا کہ دھان کے روایتی علاقہ (رائس زون) میں بیوٹا کلور یا مچیٹی 800 ملی لٹر کے حساب سے استعمال کی جائے تو بیشتر جڑی بوٹیاں تلف کی جاسکتی ہیں، اگر ڈیلا ہی کھیت میں زیادہ مقدار میں جڑی بوٹی ہوتو سن سٹار ڈبلیو جی 15 بحساب 80 گرام یا سن سٹار 60ڈبلیو جی بحساب 20 گرام فی ایکڑ ڈالیں اور مزید 10 سے15 دن بعد کھیت میں پانی کھڑا رکھیں یا وتر قائم رکھا جائے۔








