محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ دھان کے کھیت میں مناسب عمر کی پنیری کی منتقلی بہتر اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے انتہائی ضروری ہے
دھان کی پنیری کی بروقت منتقلی اچھی پیداوار کے لیے ناگزیر ہے، محکمہ زراعت

مزید خبریں
سیالکوٹ۔10جون (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ دھان کے کھیت میں مناسب عمر کی پنیری کی منتقلی بہتر اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ کے مطابق کدو کے طریقہ سے تیار کی گئی پنیری 25 تا 30 دن میں جبکہ خشک طریقہ سے کاشت کی گئی پنیری 35 تا 40 دن میں منتقلی کے قابل ہو جاتی ہے۔ تمام اقسام کے لیے پنیری کی موزوں عمر 25 تا 40 دن ہے۔ اگر پنیری کی عمر 25 دن سے کم ہو تو پودے گرمی برداشت نہ کر پانے کے باعث مر سکتے ہیں جبکہ 40 دن سے زائد عمر کی پنیری منتقلی کے بعد کم شاخیں بناتی ہے جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنیری اکھاڑنے سے ایک یا دو دن قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پنیری میں مناسب نمی اور پانی موجود ہو تاکہ مٹی نرم رہے اور جڑیں ٹوٹنے سے محفوظ رہیں۔ اگر پانی موجود نہ ہو تو پہلے آبپاشی کر لی جائے تاکہ پنیری آسانی سے اکھاڑی جا سکے۔ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ کے مطابق پنیری کی منتقلی کے وقت کھیت مکمل طور پر ہموار ہونا چاہیے اور پانی کی گہرائی ایک تا ڈیڑھ انچ رکھی جائے۔ مناسب عمر کی پنیری کی صورت میں فی سوراخ دو پودے لگانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مطلوبہ تعداد برقرار رہے اور بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ 50 دن سے زائد عمر کی پنیری ہرگز منتقل نہ کی جائے کیونکہ ایسی پنیری گنڈھل ہو جاتی ہے اور اس سے پیداوار میں 30 تا 40 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ کاشتکار محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کر کے دھان کی بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔








