وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی کا تاریخی اصغر مال کالج میں تعلیمی میوزیم کے قیام کا اعلان

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے پاکستان کے تعلیمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تاریخی گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر اور کالج انتظامیہ کے مشترکہ تعاون سے ایک خصوصی تعلیمی میوزیم قائم کیا جائے گا۔

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے پاکستان کے تعلیمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تاریخی گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر اور کالج انتظامیہ کے مشترکہ تعاون سے ایک خصوصی تعلیمی میوزیم قائم کیا جائے گا۔یہ اعلان محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومت پاکستان اور گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب کے موقع پر کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی اور اس معاہدے کو ملک کے اہم تعلیمی ورثے کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ حکومت کالج انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک جدید میوزیم قائم کرے گی جو تعلیم، تحقیق اور ورثہ آگہی کا مرکز بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مل کر میوزیم اور ورثہ جاتی تعلیم کی ایک اکیڈمی قائم کریں گے اور اصغر مال کالج کے قیمتی تاریخی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی پس منظر رکھنے والے تعلیمی اداروں کو صرف درسگاہوں کے طور پر نہیں بلکہ قومی تاریخ اور ثقافتی شناخت کے امین اداروں کے طور پر بھی محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے طلبہ میں ثقافتی، تاریخی اور آثار قدیمہ کے ورثے سے متعلق آگہی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ معاہدے میں میوزیالوجی اور تحفظ آثار کے شعبوں میں طلبہ کو علمی اور عملی تربیت فراہم کرنے کے علاوہ ماہرین کے لیکچرز، سیمینارز، ورکشاپس، عجائب گھروں اور آثار قدیمہ کے مقامات کے مطالعاتی دوروں، انٹرن شپ پروگرامز اور تحقیقی مواقع کی فراہمی بھی شامل ہے۔مجوزہ میوزیم میں گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال کی تاریخ، فن تعمیر، تعلیمی روایات اور نمایاں خدمات کی عکاسی کرنے والی نوادرات، یادگاری اشیاء، تاریخی دستاویزات، تصاویر اور دیگر اہم مواد کو محفوظ کیا جائے گا۔ محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر میوزیم کے قیام اور انتظام کے لیے فنی معاونت اور رہنمائی فراہم کرے گا جبکہ کالج انتظامیہ مناسب جگہ مختص کرنے اور میوزیم سے متعلق سرگرمیوں کے انعقاد میں تعاون کرے گی۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر امان اللہ خان نے کہا کہ یہ اقدام کالج کو ورثہ جاتی تعلیم اور عوامی آگہی کے ایک مثالی ادارے میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ میوزیم طلبہ، محققین اور عوام کے لیے ایک اہم تعلیمی و تحقیقی مرکز بنے گا اور نئی نسل کو پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کی قدر و حفاظت کی ترغیب دے گا۔پانچ سالہ ابتدائی مدت کے لیے طے پانے والی یہ مفاہمتی یادداشت تاریخی اثاثوں کے تحفظ، ورثہ جاتی تعلیم کے فروغ اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کے بارے میں عوامی شعور کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں اداروں کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔