اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):خطے میں امن دشمن عناصر کے خلاف پاکستان اور سری لنکا کا مؤقف ہمیشہ یکساں اور واضح رہا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور سری لنکن کرکٹ ٹیمیں بھی یکجہتی کی علامت بن کر ابھری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں امن، دوستی اور تعاون کو مضبوط کیا ہے۔1996 میں کشیدہ حالات کے باعث کئی بین الاقوامی ٹیموں نے …
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور سری لنکن کرکٹ ٹیمیں بھی یکجہتی کی علامت بن کر ابھری ہیں، پاکستانی عوام کا سری لنکن ٹیم کے دورہ پاکستان کے تسلسل پر بھرپور خراجِ تحسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):خطے میں امن دشمن عناصر کے خلاف پاکستان اور سری لنکا کا مؤقف ہمیشہ یکساں اور واضح رہا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور سری لنکن کرکٹ ٹیمیں بھی یکجہتی کی علامت بن کر ابھری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں امن، دوستی اور تعاون کو مضبوط کیا ہے۔1996 میں کشیدہ حالات کے باعث کئی بین الاقوامی ٹیموں نے سری لنکا میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم نے خیرسگالی کے جذبے کے تحت سری لنکا کا دورہ کر کے دوستی کا بھرپور حق ادا کیا۔
یہ دورہ پاکستانی شاہینوں کی جانب سے امن، حوصلے اور بھائی چارے کا مضبوط پیغام تھا۔پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے اس موقع پر کہا تھاکہ ہم سری لنکا اس لئے آئے ہیں تاکہ دنیا کو دکھا سکیں کہ یہاں سب کچھ محفوظ اور معمول کے مطابق ہے۔وسیم اکرم کے مطابق پاکستانی ٹیم نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس دورے کی حمایت کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سری لنکا کے لوگ کھیل سے گہری محبت رکھتے ہیں۔
آج پاکستان کو دہشت گردی کے چیلنجز کے باوجود سری لنکن ٹیم کا دورہ جاری رکھنا دونوں ملکوں کے درمیان محبت، اعتماد اور تعلق کی مضبوطی کا مظہر ہے،پاکستانی عوام نے سری لنکن ٹیم کے دورہ پاکستان کے تسلسل پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے،پاکستان نے مہمان ٹیم کو ریاستی مہمان کا درجہ دیتے ہوئے انہیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کا مکمل اہتمام کیا ہے۔








