اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے منظرنامہ میں پاکستان نے نسبتاً متوازن اور محتاط حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مالیاتی استحکام اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے،دیگرممالک کے برعکس پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاتناسب 22 سے 24 فیصد کے درمیان رہا ہے۔منگل کوسماجی رابطہ کی ویب سائٹ ’’ایکس …
دیگر ممالک کے برعکس پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کے حوالہ سے متوازن اور محتاط حکمتِ عملی اپنائی، نرخوں میں اضافہ کاتناسب 22 تا 24 فیصد رہا، مشیر وزیر خزانہ
اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے منظرنامہ میں پاکستان نے نسبتاً متوازن اور محتاط حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مالیاتی استحکام اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے،دیگرممالک کے برعکس پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاتناسب 22 سے 24 فیصد کے درمیان رہا ہے۔منگل کوسماجی رابطہ کی ویب سائٹ ’’ایکس ‘‘پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، متعدد ممالک نے بالخصوص ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ صارفین تک منتقل کر دیا ہے، اس کے برعکس پاکستان نے نسبتاً متوازن اور محتاط حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مالیاتی استحکام اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
مشیرخزانہ نے کہاکہ معاشی جائزوں کے مطابق ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں حالیہ دونوں میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، عالمی سطح پر ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہا، جہاں کئی ممالک میں قیمتیں 27 سے 71 فیصد یا اس سے بھی زیادہ بڑھائی گئیں جبکہ پاکستان میں اضافہ نسبتاً محدود رہتے ہوئے 22 سے 24 فیصد کے درمیان رہا۔انہوں نے کہاکہ متعدد ممالک خصوصاً ابھرتی ہوئی معیشتوں نے عالمی سطح پر نرخوں میں اضافے کے دھچکوں کو فوری اور بڑے پیمانے پر صارفین تک منتقل کیا، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔انہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات پرٹیکسوں کے حوالے سے اعداد و شمار سے ظاہرہورہاہے کہ پاکستان میں ان مصنوعات پر ریٹیل ٹیکس کی مجموعی شرح 25 فیصد ہے جس میں ڈیزل پر 16 فیصد اور پٹرول پر 33 فیصد ٹیکس شامل ہے۔
یہ شرح خطے کے اوسط 35 فیصد کے مقابلے میں کم ہےجبکہ پاکستان میں سیلز ٹیکس کی شرح صفر فیصد رکھی گئی ہےجو بصورتِ دیگر 18 فیصد ہو سکتی تھی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی جانب سے قیمتوں میں ردوبدل نسبتاً اعتدال پسند اور مرحلہ وار رکھا گیا ہے جو ایک سوچے سمجھے اور متوازن طرزِ عمل کی عکاسی کررہاہے اور جس کا مقصد ایک طرف مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور دوسری جانب عوام پر بوجھ کو کم سے کم رکھنا ہے۔انہوں نے کہاکہ عالمی رجحانات سے یہ بھی ظاہرہے کہ طویل عرصے تک سبسڈی برقرار رکھنے کی گنجائش دنیا بھر میں محدود ہوتی جا رہی ہےاور بیشتر معیشتیں بتدریج قیمتوں کو حقیقی سطح پر لانے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔









