اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر معاشی ترقی کا ایک اہم محرک ہے، شعبہ کے ریگولیٹری اور سرمایہ کاری چیلنجز سے نمٹنے کے لئے نیشنل رئیل اسٹیٹ کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےجمعرات کو آئی سی سی آئی میں پریس کانفرنس سے خطاب …
رئیل اسٹیٹ سیکٹر معاشی ترقی کا ایک اہم محرک ہے، شعبہ کے ریگولیٹری اور سرمایہ کاری چیلنجز سے نمٹنے کے لئے نیشنل رئیل اسٹیٹ کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت ہے، سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر معاشی ترقی کا ایک اہم محرک ہے، شعبہ کے ریگولیٹری اور سرمایہ کاری چیلنجز سے نمٹنے کے لئے نیشنل رئیل اسٹیٹ کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےجمعرات کو آئی سی سی آئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ تاجر برادری برآمدات کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے وزیر اعظم کے وژن اور خاص طور پر "اڑان پاکستان” کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات، ٹیکسز، شرح سود اور مہنگی توانائی کے باعث پاکستان کی مسابقت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر، اقتصادی سرگرمیوں اور روزگار میں ایک بڑا حصہ دار ہونے کے باوجود ریگولیٹری مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر 60 سے 70 متعلقہ صنعتوں کو سپورٹ کرتا ہے جن میں سیمنٹ، سٹیل، تعمیراتی مواد، ٹرانسپورٹ، مالیاتی خدمات، انجینئرنگ اور ہنر مند لیبر وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک منظم اور متحرک رئیل اسٹیٹ سیکٹر پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔
سردار طاہر محمود نے مزید نشاندہی کی کہ پاکستان کو اس وقت علاقائی طور پر توانائی کے غیر مسابقتی ٹیرف، زیادہ ٹیکسوں اور بلند شرح سود کا سامنا ہے جس سے کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صوابدیدی اختیارات کو کم نہیں کیا جاتا اور مقررہ وقت کے اندر منظوری نہیں دی جاتی بامعنی سرمایہ کاری میں مشکلات رہیں گی۔آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کاروبار دوست اقدامات نا گریز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار، سرمایہ کاری دوست اور ترقی پر مبنی مالیاتی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اقتصادی پالیسیوں اور بجٹ کے فیصلوں کو حتمی شکل دینے سے قبل چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے بامعنی مشاورت کرنے پر بھی زور دیا۔
سردار طاہر محمود نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان پل کے طور پر کام کرنے کے لئے آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ بروقت پالیسی سپورٹ اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط، برآمدات میں اضافہ، روزگار پیدا کرنے اور پاکستان کو اقتصادی ترقی کی پائیدار راہ پر گامزن کریں گے۔چیئرمین آئی سی سی آئی فاؤنڈر گروپ شیخ طارق صادق، سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تاجر برادری نے بڑی تعداد میں کانفرنس میں شرکت کی۔








