وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کوانتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کوانتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے، بعض عناصر امن و امان کی صورتحال اور انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی بیشتر شقوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے اور باقی معاملات بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا رہے ہیں،
حکومت کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتی ہے۔اتوار کو سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اپنی مدت پوری کر چکی ہے، نئےانتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، انتخابی شیڈول جاری کیا جا چکا ہے اور 27 جولائی کو انتخابات منعقد ہوں گے تاہم بعض عناصر کی جانب سے ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے امن و امان متاثر ہو اور ماضی کی طرح پرتشدد مظاہروں کو دوبارہ ہوا ملے۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی ستمبر 2023 میں وجود میں آئی تھی اور اس کے تین بنیادی مطالبات آٹے پر سبسڈی، بجلی کے نرخوں میں کمی اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی تھے،جنہیں حکومت نے تسلیم کیا ، اس وقت آزاد کشمیر میں بجلی کی قیمت تین روپے فی یونٹ ہے جبکہ آٹے سمیت تمام اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 2025 میں دوبارہ لانگ مارچ، شٹر ڈاؤن اور پرتشدد مظاہروں کی کال دی گئی اور 38 نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا۔ اس معاملے پر وفاقی وزرا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے 3 اور 4 اکتوبر 2025 کو مظفرآباد میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے بعد معاہدہ کیا۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت دی، مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کا حکم دیا اور عملدرآمد کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد ہوتے رہے اور معاہدے کی شقوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا رہا۔انہوں نے کہا کہ 30 مئی کو دوبارہ مذاکرات کےدوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بنیادی مطالبہ مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے مختص 12 نشستوں کا خاتمہ تھا۔ حکومت کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے آل پارٹیز کانفرنس، قانون ساز اسمبلی میں بحث، سپریم کورٹ آزاد کشمیر سے رجوع کرنے اور 9 جون کی کال چند روز کے لیے مؤخر کرنے سمیت چار تجاویز پیش کی گئیں تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انہیں قبول نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور حکومت آزاد جموں و کشمیر بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتی تھیں لیکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو مارچ کے انعقاد پر اصرار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع سے کسی مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ 3 اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا یا صرف تین شقوں پر عمل کیا گیا۔ ان کے مطابق 38 میں سے 35 شقوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ باقی چند شقوں میں قانونی اور عدالتی پیچیدگیاں حائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعدد شقوں پر ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے عملدرآمد کیا گیا، جن میں ایف آئی آرز کا خاتمہ، کابینہ کے حجم میں کمی، متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی، نوکریوں کی فراہمی اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظاہروں کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام متاثرین کو مکمل معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے۔ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہا کہ سڑکوں، سرنگوں، ہوائی اڈوں، بجلی کے نظام اور صحت کی سہولیات سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے جا چکے ہیں، تاہم ایسے بڑے منصوبے چند ماہ میں مکمل نہیں ہوتے بلکہ ان کی تکمیل میں کئی سال لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر چند ماہ بعد لانگ مارچ، شٹر ڈاؤن اور پرتشدد احتجاج کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا مطالبہ کرنا مناسب طرز عمل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور افہام و تفہیم میں ہے، نہ کہ تشدد اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوششوں کا مقصد آزاد کشمیر اور پاکستان کو الگ اکائیاں ظاہر کرنا، دونوں کے مضبوط تعلقات کو کمزور کرنا، آزاد کشمیر کے عوام کو مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین سے دور کرنا یا کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا تو نہیں؟۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیر کاز کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں انتشار پیدا کرنے کی ہر کوشش سے پاکستان کا دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو نہ پہلے نظرانداز کیا گیا اور نہ اب کیا جا رہا ہے تاہم مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معصوم انسانی جانوں کے نقصان اور تشدد کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔








