پنجاب کے سابق وزیر آبپاشی اور سینئر آبی پالیسی ماہر محسن لغاری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ، جسے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا دنیا کے سب سے پائیدار انتظام تصور کیا جاتا ہے
سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر پاکستان کی قانونی پوزیشن مضبوط ہے، پاکستان کوبین الاقوامی قانونی فورمز پر اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آبی اصلاحات بھی جاری رکھنی چاہئیں،محسن لغاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):پنجاب کے سابق وزیر آبپاشی اور سینئر آبی پالیسی ماہر محسن لغاری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ، جسے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا دنیا کے سب سے پائیدار انتظام تصور کیا جاتا ہے، بھارتی آبی منصوبوں، معاہدے کی تشریح سے متعلق اختلافات اور دریائی پانی کی منتقلی کے منصوبوں کے باعث نئے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک سندھ طاس معاہدہ جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا۔ معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر حقوق حاصل ہیں تاہم بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔محسن لغاری نے کہا کہ اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو مبینہ طور پر معطل کرنے کے اعلان کے بعد صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے دنیا کے سب سے بڑے مشترکہ دریائی نظام کے قانونی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے دریائے چناب پر قائم بھارتی پن بجلی منصوبوں پاکل دل، کیرو، کوار اور رتلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بھارت ان منصوبوں کو معاہدے کے مطابق قرار دیتا ہے، تاہم ان کا مشترکہ آپریشن دریا کے بہاؤ اور پانی کے اوقات کار کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ صرف پانی کی مقدار نہیں بلکہ پانی کے اخراج کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہے، جس کے پاکستان کے زرعی اور آبپاشی نظام پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔محسن لغاری نے بھارت کے علاقے لاہول سپتی میں زیرِ غور 8.7 کلومیٹر طویل سرنگ منصوبے کا بھی ذکر کیا جس کا مقصد دریائے چناب کی معاون ندیوں چندرا اور بھاگا کے پانی کو بیاس بیسن کی طرف منتقل کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ پانی کی منتقلی محدود پیمانے پر ہو، تب بھی یہ اقدام سندھ طاس معاہدے کی روح اور اس کی تشریح سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آبپاشی نظام، جس میں مرالہ بیراج اور اپر چناب کینال شامل ہیں، چناب کے متوقع آبی بہاؤ کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا تھا، اس لیے بیسن سے باہر پانی کی منتقلی نیچے کے علاقوں میں پانی استعمال کرنے والوں کے لیے طویل مدتی غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔محسن لغاری نے کہا کہ پانی کی تقسیم کے دیرینہ انتظامات میں یکطرفہ تبدیلیاں بین الاقوامی آبی معاہدوں پر اعتماد کو متاثر کر سکتی ہیں، خصوصاً ایسے خطوں میں جہاں بڑے دریا مختلف ممالک سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت خود بھی بعض بین الاقوامی دریاؤں کے سلسلے میں زیریں دھارے کا ملک ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو آبی تحفظ مضبوط بنانے کے لیے انفراسٹرکچر کی بہتری، ذخیرہ آب کی استعداد میں اضافہ، نہری نظام کی جدیدکاری اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ و ڈیٹا اینالیٹکس میں سرمایہ کاری پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مشترکہ واٹر ڈیٹا سسٹمز، پانی کی پیمائش کے یکساں معیارات اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سندھ طاس معاہدے سے متعلق جاری قانونی کارروائیوں اور مستقل عدالت برائے ثالثی (Permanent Court of Arbitration) کے حالیہ ضمنی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے محسن لغاری نے کہا کہ پاکستان اسے اپنے دیرینہ قانونی مؤقف کی توثیق سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ معاہدے کے تحت پاکستان کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے اور دریاؤں کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی بھارتی صلاحیت پر بھی مناسب حدود عائد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قانونی اعتبار سے مضبوط پوزیشن میں ہے اور اسے بین الاقوامی قانونی فورمز پر اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک آبی اصلاحات بھی جاری رکھنی چاہئیں۔ ان کے بقول قانونی حکمت عملی اور داخلی اصلاحات ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور دونوں کو بیک وقت آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی آبی سلامتی مزید مستحکم ہو سکے








