رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت وزیراعظم یوتھ پروگرام اور اقوامِ متحدہ یوتھ ٹاسک فورس کا اعلیٰ سطحی اجلاس

رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت وزیراعظم یوتھ پروگرام اور اقوامِ متحدہ یوتھ ٹاسک فورس کا اعلیٰ سطحی اجلاس

اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری کو ایک اہم ترجیح سمجھتے ہیں، گزشتہ دو سال میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت 305 ارب روپے سے زائد کے کاروباری قرضے دیئے جا چکے ہیں اور لاکھوں نوجوانوں کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔منگل کو وزیراعظم یوتھ پروگرام سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم یوتھ پروگرام اور اقوامِ متحدہ یوتھ ٹاسک فورس کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم آفس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کی۔

اجلاس کا مقصد نوجوانوں کی ترقی کو فروغ دینا اور ان کے لئے مواقع بڑھانے کے حوالے سے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا تھا خاص طور پر وزیراعظم ڈیجیٹل یوتھ حب کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا تاکہ نوجوانوں کو روزگار، مہارتوں کی تربیت اور کاروباری مواقع سے جوڑا جا سکے۔اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے پاکستان میں ریذیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ، اقوامِ متحدہ یوتھ ٹاسک فورس کے اراکین اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان میں اقوامِ متحدہ یوتھ ٹاسک فورس کے تقریباً 90 فیصد اراکین پاکستانی شہری ہیں، جو مقامی نمائندگی اور قومی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اپنے افتتاحی کلمات میں چیئرمین نے اقوامِ متحدہ کے نمائندوں کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری کو ایک اہم ترجیح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 10 کروڑ نوجوان (10 سے 29 سال کی عمر کے) موجود ہیں جو ملک کا ایک بڑا اور متحرک حصہ ہیں۔انہوں نے اقوامِ متحدہ کے اہم شراکت دار اداروں جیسے یونیسیف اور اس کے "جنریشن اَن لمیٹڈ” اقدام، اقوامِ متحدہ پاپولیشن فنڈ، اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور یونیسکو کی خدمات کو سراہا جنہوں نے نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور مہارتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔چیئرمین نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت 305 ارب روپے سے زائد کے کاروباری قرضے دیئے جا چکے ہیں اور لاکھوں نوجوانوں کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پیشرفت ہوئی ہے لیکن چیلنج بہت بڑا ہے جس کے لئے مزید مربوط اور تیز اقدامات کی ضرورت ہے۔اجلاس کا مرکزی موضوع وزیراعظم ڈیجیٹل یوتھ حب تھا جو pmyp.gov.pk کے ذریعے دستیاب ہے۔ یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل نظام ہے جس میں نوجوانوں کا رجسٹری نظام شامل ہے جہاں ان کی تعلیم، مہارتیں اور دلچسپیاں درج کی جاتی ہیں، اسی کے ساتھ مواقع کا ایک ایسا نظام موجود ہے جہاں سرکاری ادارے، اقوامِ متحدہ، این جی اوز اور نجی شعبہ ملازمتیں، سکالرشپس، انٹرن شپس اور تربیتی پروگرامز فراہم کرتے ہیں جبکہ ایک جدید ڈیٹا اینالیٹکس نظام بھی اس کا حصہ ہے جو مہارتوں کی کمی، علاقائی فرق اور مختلف پروگرامز کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیتا ہے۔

چیئرمین نے مزید بتایا کہ ڈیجیٹل یوتھ حب کو "فائدا ایکٹ 2026” کے تحت ایک سرکاری پلیٹ فارم کا درجہ دیا جائے گا اور تمام وفاقی وزارتوں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ اپنے نوجوانوں سے متعلق پروگرامز اس پر شامل کریں۔اجلاس کے دوران محمد یحییٰ نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کو باضابطہ طور پر ڈیجیٹل یوتھ حب میں شامل کیا جو ایک اہم پیش رفت ہے۔شرکاء کو بتایا گیا کہ یہ پلیٹ فارم مکمل طور پر فعال ہے اور ملک بھر کے نوجوان اس میں رجسٹریشن کر رہے ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ مواقع بڑھانے کے لئے اقوامِ متحدہ، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کو مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔چیئرمین نے تمام اقوامِ متحدہ کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے پروگرامز، جیسے انٹرن شپس، فیلوشپس، تربیت، سکالرشپس اور رضاکارانہ مواقع اس پلیٹ فارم پر رجسٹر کریں اور اسے فروغ دیں۔

انہوں نے نجی شعبے کے کردار کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔حکومتِ پاکستان نے یقین دہانی کرائی کہ "فائدا ایکٹ 2026” کے تحت نجی شعبے کے ساتھ تعاون کو مزید آسان بنایا جائے گا۔اجلاس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ ڈیجیٹل یوتھ حب مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کے عالمی مباحث میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ ایک ڈیٹا پر مبنی جدید نظام ہے۔شرکاء نے حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،

تاکہ نوجوانوں خصوصاً پسماندہ طبقات کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جا سکیں۔چیئرمین نے محمد یحییٰ کو دعوت دی کہ وہ اقوامِ متحدہ کے تمام اداروں کی اس پلیٹ فارم میں شمولیت کی قیادت کریں، اور ہدف مقرر کیا کہ 60 دنوں میں تمام متعلقہ ادارے رجسٹر ہو جائیں جبکہ 6 ماہ میں کم از کم 20 نجی ادارے بھی شامل کئے جائیں۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ مل کر ڈیجیٹل یوتھ حب کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لائیں گے۔

مزید خبریں