اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ بیع نامہ صرف اس بنیاد پر غیر موثر یا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس پر خریدار کے دستخط یا انگوٹھے کے نشانات موجود نہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ رجسٹرڈ دستاویز کو فراڈ کے ذریعے حاصل کرنے کا الزام لگانے والے فریق کو دھوکہ دہی کے الزامات کی واضح تفصیلات اور ثبوت پیش کرنا …
رجسٹرڈ بیع نامے کو صرف خریدار کے دستخط نہ ہونے کی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ بیع نامہ صرف اس بنیاد پر غیر موثر یا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس پر خریدار کے دستخط یا انگوٹھے کے نشانات موجود نہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ رجسٹرڈ دستاویز کو فراڈ کے ذریعے حاصل کرنے کا الزام لگانے والے فریق کو دھوکہ دہی کے الزامات کی واضح تفصیلات اور ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔جسٹس شاہد وحید نے تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا کہ رجسٹرڈ دستاویز کو قانونی طور پر درست تصور کیا جاتا ہے، جب تک اسے چیلنج کرنے والا فریق ٹھوس شواہد کے ذریعے اس کے خلاف اپنا موقف ثابت نہ کرے۔ محض فراڈ کا الزام لگانے سے ثبوت کا بوجھ خودبخود دوسرے فریق پر منتقل نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ 64 کنال ایک مرلہ زرعی اراضی کی ملکیت سے متعلق دو اپیلوں پر 20 اکتوبر 2026 کو سماعت کے بعد جاری کیا۔ جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدالت کی اپیلٹ عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔مقدمے کے مطابق نسرین زہرا نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے حق میں وراثت میں آنے والی اراضی کا 10 مئی 1976 کا رجسٹرڈ بیع نامہ فراڈ کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا اور وہ اس زمین کی قانونی مالک ہیں۔ ان کے مطابق انہیں زمین کی منتقلی کا علم مقدمہ دائر کرنے سے چند روز قبل پٹواری حلقہ سے ریکارڈ معلوم کرنے پر ہوا۔
انہوں نے متعلقہ انتقال اور ریونیو ریکارڈ کو بھی چیلنج کیا تھا۔ٹرائل کورٹ نے 23 دسمبر 2005 کو تقریباً 20 سال کی تاخیر اور فراڈ کے الزام کی تائید میں شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر دعویٰ خارج کر دیا تھا تاہم ڈسٹرکٹ جج کی اپیلٹ عدالت نے 23 اگست 2006 کو یہ فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے دعویٰ منظور کر لیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے 22 جون 2015 کو بھی اپیلٹ عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ فراڈ کے دعوے میں مدعی کے لئے ضروری ہے کہ وہ واضح کرے کہ دھوکہ دہی کس نے، کب اور کس طریقے سے کی۔ زیرِ غور مقدمے میں دعوے کے اندر ان بنیادی تفصیلات کا فقدان تھا۔ عدالت کے مطابق محض یہ کہنا کافی نہیں کہ دستاویز فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی بلکہ اس الزام کو قابلِ فہم تفصیلات اور شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پردہ نشین خاتون کے حقوق کا تحفظ قانونی طور پر اہم ہےتاہم محض کسی خاتون کا پردہ نشین ہونا اس کی جانب سے دستخط یا انگوٹھے کے نشان والی دستاویز کو خودبخود غیر قانونی نہیں بناتا۔ اس اصول کا اطلاق کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا خاتون کو دستاویز کی نوعیت اور اثرات کا علم تھا اور اس نے آزادانہ رضامندی سے اسے تسلیم کیا تھا یا نہیں۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بیع نامہ اور معاہدہ فروخت دو مختلف قانونی دستاویزات ہیں۔
معاہدہ فروخت آئندہ لین دین کے وعدوں سے متعلق ہوتا ہے جبکہ رجسٹرڈ بیع نامہ ملکیت کی منتقلی کی دستاویز ہے۔ اس لئے معاہدہ فروخت سے متعلق قانونی نظیروں کا اطلاق رجسٹرڈ بیع نامے پر بلاامتیاز نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے مقدمے میں میعادِ دعویٰ کے معاملے کو بھی اہم قرار دیا۔ فیصلے کے مطابق بیع نامہ 10 مئی 1976 کو رجسٹرڈ ہوا، متعلقہ انتقال 9 اکتوبر 1977 کو منظور ہوا جبکہ دعویٰ 8 مئی 1997 کو دائر کیا گیا۔ یوں تقریباً 21 سال بعد دائر کیے گئے مقدمے میں مدعی کی جانب سے تاخیر سے علم ہونے کی بات کو ثابت کرنے کے لئے مطلوبہ تفصیلات اور شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانونِ میعاد کے تحت عدالت کو یہ دیکھنا لازم ہے کہ مقدمہ مقررہ مدت کے اندر دائر ہوا یا نہیں، خواہ مخالف فریق نے اس اعتراض کو اٹھایا ہو یا نہ اٹھایا ہو۔ عدالت نے قرار دیا کہ نسرین زہرا کا دعویٰ میعاد سے باہر تھا اور تاخیر سے علم ہونے کے موقف کو تسلیم کرنے کے لئے قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔عدالت نے دونوں اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 22 جون 2015 اور اپیلٹ عدالت کا 23 اگست 2006 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جبکہ ٹرائل کورٹ کا 23 دسمبر 2005 کا فیصلہ بحال کر دیا جس کے تحت اراضی سے متعلق دعویٰ خارج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اخراجات کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
C







