روس کا جنرل اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں مقبوضہ یوکرینی علاقوں کی صورتحال کے عنوان سے آئٹم کی شمولیت پر اعتراض

اقوام متحدہ ۔16ستمبر (اے پی پی):روس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس کے ایجنڈے میں مقبوضہ یوکرینی علاقوں کی صورتحال کے عنوان سے ایجنڈا آئٹم کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔ روسی مندوب نے موقف اختیار کیا کہ یہ الفاظ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے اوران کے ذریعے جان بوجھ کر بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ روسی نمائندے نے اس …

اقوام متحدہ ۔16ستمبر (اے پی پی):روس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس کے ایجنڈے میں مقبوضہ یوکرینی علاقوں کی صورتحال کے عنوان سے ایجنڈا آئٹم کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔ روسی مندوب نے موقف اختیار کیا کہ یہ الفاظ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے اوران کے ذریعے جان بوجھ کر بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

روسی نمائندے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ خود ارادیت کے بنیادی اصول کی بھی نفی کرتا ہے۔روسی مندوب نے کہا کہ 2014 میں یوکرین میں نازی نواز خونی بغاوت مغرب کی طرف سے شروع کی گئی جس کے نتیجے میں یوکرین میں نسلی روسی، روسی بولنے والے اور عیسائی آرتھوڈوکس باشندوں کو منظم طریقے سے ظلم و ستم کا نشانہ بنا یا گیااور انہیں ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔یہ ایجنڈا آئٹم صرف یوکرینی حکومت کے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کو پھیلانے میں معاون ہے۔

مزید برآں، چونکہ یوکرین کے موضوع پر دوسرے فورمز میں بھی بات کی جاتی ہے، اس لیے یہ ایجنڈا آئٹم کوشش کو دہرانے کی واضح مثال ہے۔یوکرین کے نمائندے نے اپنی طرف سے، اس ایجنڈے کے آئٹم کو شامل کرنے پر جنرل اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین پر روسی فیڈریشن کے حملے کے پس منظر میں، ایجنڈے میں اس آئٹم کو برقرار رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سمیت 130 سےزیادہ سربراہان مملکت؍حکومت کی اس موقع پر اعلیٰ سطحی بحث میں شرکت متوقع ہے۔