روس کے ساتھ امن معاہدے سے دس فیصد دور ہیں، یوکرینی صدر کا سال نو کے موقع پر عوام سے خطاب

کیف۔1جنوری (اے پی پی):یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ امن معاہدے سے دس فیصد دور ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سب سے اہم مسائل ابھی حل طلب ہیں اور کوئی بھی معاہدہ روس کو انعام کے طور پر طے نہیں پاناچاہیے۔ اے ایف پی کے مطابق انہوں نے سال نو کے موقع اپنے ٹیلی گرام اکائونٹ پر جاری قوم …

کیف۔1جنوری (اے پی پی):یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ امن معاہدے سے دس فیصد دور ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سب سے اہم مسائل ابھی حل طلب ہیں اور کوئی بھی معاہدہ روس کو انعام کے طور پر طے نہیں پاناچاہیے۔

اے ایف پی کے مطابق انہوں نے سال نو کے موقع اپنے ٹیلی گرام اکائونٹ پر جاری قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے لیکن ہر قیمت پر نہیں اور یہ کہ کسی بھی معاہدے میں روس کو یوکرین پر حملے سے روکنے کی مضبوط سکیورٹی ضمانتیں ہونی چاہئیں ۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ امن معاہدہ 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے، اس پر صرف دس فیصد کام باقی ہے، مگر یہ محض اعداد کا فرق نہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ یہی دس فیصد امن کی تقدیر، یوکرین کے مستقبل اور پورے یورپ کے تحفظ کا فیصلہ کریں گے۔

امریکا نے روس اور یوکرین کی مشاورت سے ایک امن معاہدہ طے کرانے کی کوشش کی ہے، تاہم جنگ کے بعد علاقائی معاملات پر تاحال کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ روسی صدر ولادیمیرپیوٹن معاہدے کے حصے کے طور پر یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر یوکرینی صدر نے اپنے خطاب میں روسی صدر کے مطالبے کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ اگر یوکرین پیچھے ہٹ بھی جائے تو روس صرف ڈونباس تک محدود رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ ڈونباس سے دستبردار ہو جاؤ اور سب کچھ ختم ہو جائے گا دراصل ایک دھوکا ہے۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ یہ دھوکا روسی زبان ،یوکرینی، انگریزی، جرمن، فرانسیسی یا دنیا کی کسی بھی زبان میں یکساں طور پر دھوکا ہی رہتا ہے۔

مزید خبریں