اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):رومانوی تحریروں سے مشہور و مقبول پاکستان کی نامور افسانہ و ناول نگار حجاب امتیاز علی کا یوم پیدائش 4 نومبر کو منایا جائے گا۔ حجاب امتیاز علی 4 نومبر 1908ء میں حیدر آباد دکن کے ایک مقتدر اور مہذب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سید محمد اسماعیل نظام حیدر آباد کے فرسٹ سیکرٹری تھے۔ حجاب امتیاز علی نے عربی، فارسی، اردو اور موسیقی …
رومانوی تحریروں سے مشہور و مقبول ہونے والی پاکستان کی نامور افسانہ و ناول نگار حجاب امتیاز علی کا یوم پیدائش 4 نومبر کو منایا جائے گا

مزید خبریں
اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):رومانوی تحریروں سے مشہور و مقبول پاکستان کی نامور افسانہ و ناول نگار حجاب امتیاز علی کا یوم پیدائش 4 نومبر کو منایا جائے گا۔ حجاب امتیاز علی 4 نومبر 1908ء میں حیدر آباد دکن کے ایک مقتدر اور مہذب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔
ان کے والد سید محمد اسماعیل نظام حیدر آباد کے فرسٹ سیکرٹری تھے۔ حجاب امتیاز علی نے عربی، فارسی، اردو اور موسیقی کی تعلیم گھر پر جبکہ انگریزی تعلیم کالج سے حاصل کی ۔ ان کی والدہ عباسی بیگم بھی اپنے عہد کی معروف ناول نگار تھیں۔ حجاب امتیاز علی کی شادی 1935ء میں ڈراما انارکلی کے مصنف امتیاز علی تاج سے ہوئی۔ نکاح سے قبل حجاب کا نام حجاب اسماعیل تھا جو بعد میں حجاب امتیاز علی مشہور ہو گیا۔ وہ پہلی مسلم خاتون پائلٹ بھی تھیں۔
انہوں نے 1936ء میں ناردن لاہور فلائنگ کلب سے ہوا بازی کی سند حاصل کی اور برٹش گورنمنٹ کی پہلی خاتون پائلٹ کہلائیں۔ اسی برس تہذیب نسواں میں ان کی ہوا بازی کے متعلق ایک نظم چھپی اور ان کو شہرت دی۔حجاب امتیاز علی نے بارہ برس کی عمر میں ناول میری ناتمام محبت تحریر کیا ۔ ان کے تحریر کردہ ناولوں میں اندھیرا خواب، ظالم محبت، وہ بہاریں یہ خزائیں، سیاح عورت، افسانوی مجموعے میری ناتمام محبت، ممی خانہ، تحفے اور شگوفے قابل ذکر ہیں۔
حجاب امتیاز علی کے آخری ناول پاگل خانہ کو آدم جی ادبی انعام سے نوازا گیا اور حکومت پاکستان نے حجاب امتیاز علی کی گرانقدر ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔حجاب امتیاز علی 19 مارچ 1999ء کو لاہور میں وفات پاگئیں اور لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں ۔ حجاب امتیاز علی کی سالگرہ کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے منعقدہ تقریبات میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔








