کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کی زیر صدارت کمشنر آفس راولپنڈی میں روڈ کٹنگ کی اجازت، مختلف محکموں کی زیر زمین سروس لائنز، جاری ترقیاتی منصوبوں اور بین المحکمہ جاتی رابطہ کاری کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا
روڈ کٹنگ کی اجازت و این او سی کے بغیر کوئی ایجنسی کہیں کام شروع نہ کرے، کمشنر راولپنڈی

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 10 ستمبر (اے پی پی):کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کی زیر صدارت کمشنر آفس راولپنڈی میں روڈ کٹنگ کی اجازت، مختلف محکموں کی زیر زمین سروس لائنز، جاری ترقیاتی منصوبوں اور بین المحکمہ جاتی رابطہ کاری کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ، ایڈیشنل کمشنر، ہائی ویز، نیاٹیل، پی ٹی سی ایل، آر ڈی اے، واسا، SNGPL، آئیسکو، میونسپل کارپوریشن راولپنڈی، ڈسٹرکٹ کونسل اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی نے کہا کہ شہری علاقوں میں سڑکوں کی بار بار کٹائی سے عوام کو مشکلات، ٹریفک مسائل اور سرکاری وسائل کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے تمام متعلقہ محکمے روڈ کٹنگ سے قبل مکمل منصوبہ بندی اور باہمی رابطہ کاری کو یقینی بنائیں۔ کمشنر راولپنڈی نے ہدایت کی کہ جن تمام محکموں، اداروں اور سروس پرووائیڈرز کو اپنی سروسز کی تنصیب، منتقلی یا مرمت کے لیے روڈ کٹنگ کی ضرورت ہے، انہیں مربوط نظام کے تحت آن بورڈ کیا جائے۔ تمام متعلقہ محکمے اپنے آئندہ منصوبوں اور زیر زمین لائنز کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ بروقت معلومات شیئر کریں تاکہ کسی بھی نئی تعمیر شدہ سڑک کو دوبارہ کاٹنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ بہتر شہری ترقی کے لیے تمام محکموں کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن ناگزیر ہے۔ ہر محکمہ مقررہ نظام اور ضابطہ کار کے مطابق کام کرے اور کسی بھی روڈ کٹنگ کی اجازت سے قبل متعلقہ محکموں سے ضروری مشاورت اور این او سی کا عمل مکمل کیا جائے۔
روڈ کٹنگ کو آخری ترجیح رکھا جائے، جہاں ممکن ہو، روڈ کٹنگ کے بجائے تھرسٹ بورنگ، ڈکٹنگ اور دیگر متبادل جدید طریقہ کار اختیار کیے جائیں تاکہ سڑکوں کی سطح اور بنیادی ڈھانچے کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ کمشنر راولپنڈی نے ہدایت کی کہ اگر کسی ناگزیر صورتحال میں روڈ کٹنگ کی اجازت دی جائے تو کٹی ہوئی سڑک کی بحالی اسی معیار اور مضبوطی کے ساتھ کی جائے۔ روڈ کٹنگ کے بعد سڑک کی مکمل بحالی، فلنگ اور تعمیراتی کام 15 دن کے اندر مکمل کیے جائیں۔ متعلقہ محکمہ کام کے آغاز سے قبل تکمیل کا واضح ٹائم فریم مقرر کرے۔ کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ کسی بھی نئی تعمیر شدہ یا ازسرنو تعمیر کی گئی سڑک کو بعد میں کسی سروس لائن کی تنصیب یا تبدیلی کے لیے دوبارہ نہ کاٹا جائے۔یوٹیلٹی سروسز پروائینڈرز کی جانب سے دی گئی درخواستوں میں اگر کوئی پینڈنسیز ہیں تو انہیں تین دن کے اندر کلیئر کیا جائے اور کسی بھی درخواست یا تجویز پر بروقت فیصلہ یقینی بنایا جائے۔ تمام بڑے ترقیاتی منصوبوں میں یوٹیلیٹی شفٹنگ اور روڈ کٹنگ کو منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں شامل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے منصوبہ شروع ہونے سے قبل متعلقہ محکموں کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ منصوبے کی تکمیل کے بعد دوبارہ سڑک کھودنے کی نوبت نہ آئے۔
کمشنر سلمان غنی نے افسران کو ہدایت کی کہ روڈ کٹنگ کی اجازت صرف حقیقی ضرورت اور واضح جواز کی بنیاد پر دی جائے۔ غیر ضروری روڈ کٹنگ کی حوصلہ شکنی کی جائے اور عوامی سہولت، ٹریفک روانی اور سڑکوں کے معیار کو اولین ترجیح دی جائے۔ کمشنر راولپنڈی ڈویژن نے فیصلہ کیا کہ تمام متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، زیر زمین سروس لائنز کی مؤثر منصوبہ بندی اور روڈ کٹنگ کے معاملات کو بروقت حل کرنے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر روڈ کٹنگ اور یوٹیلیٹی کوآرڈینیشن اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس میں تمام محکمے اپنے زیر التوا معاملات، جاری کاموں، آئندہ منصوبوں اور مطلوبہ روڈ کٹنگ کی تفصیلات پیش کریں گے۔








