وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم جو عناصر ریاستِ پاکستان کو توڑنے یا تقسیم کرنے کی سوچ رکھتے ہیں، ان سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ریاست مخالف عناصر سے آئین کے منافی مذاکرات نہیں ہو سکتے، میر سرفراز بگٹی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 14 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم جو عناصر ریاستِ پاکستان کو توڑنے یا تقسیم کرنے کی سوچ رکھتے ہیں، ان سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان لازم و ملزوم ہیں اور یہ رشتہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد، سوشل میڈیا اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے والی آوازیں ریاست کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہی ہیں اور انہی حربوں کے ذریعے پاکستان کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ غیر متوازن ترقی تشدد کی بنیادی وجہ نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج تربت اور بلوچستان کے کئی دیگر علاقے پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، لیکن کیا وہاں نام نہاد تحریکیں ختم ہو گئی ہیں؟ ان کے بقول ریاست مخالف عناصر ترقی یا پسماندگی کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ ریاست ہر چیز سے مقدم ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاستِ پاکستان کے دفاع کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ گورننس سے متعلق شکایات اور تحفظات ہو سکتے ہیں، مگر ریاست کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے میرٹ پر مبنی نظام ناگزیر ہے اور حکومت آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر استوار بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔








