ریاض میں سعودی انٹرٹینمنٹ ایکسپو کا آٹھویں ایڈیشن 19 مئی سے ریاض میں شروع ہو گا

ریاض۔2مارچ (اے پی پی):’’سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی‘‘ اور ’’امیوزمنٹ ایکسپو ‘‘ کاآٹھواں ایڈیشن 19 مئی سے ریاض میں شروع ہو گا،جو 20 مئی تک جاری رہے گا۔ اردو نیوز کے مطابق اس ایونٹ سے سعودی وژن 2030‘کے اہداف کے تحت مملکت کی ثقافتی معیشت میں رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کی اہمیت بھی اجاگر ہوگی۔ ’’سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی‘‘ اور’’امیوزمنٹ ایکسپو‘‘ جسے’’ایس ای اے ایکسپو، سعودی لائٹ اور ساؤنڈ ایکسپو‘‘ بھی کہا …

ریاض۔2مارچ (اے پی پی):’’سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی‘‘ اور ’’امیوزمنٹ ایکسپو ‘‘ کاآٹھواں ایڈیشن 19 مئی سے ریاض میں شروع ہو گا،جو 20 مئی تک جاری رہے گا۔ اردو نیوز کے مطابق اس ایونٹ سے سعودی وژن 2030‘کے اہداف کے تحت مملکت کی ثقافتی معیشت میں رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کی اہمیت بھی اجاگر ہوگی۔ ’’سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی‘‘ اور’’امیوزمنٹ ایکسپو‘‘ جسے’’ایس ای اے ایکسپو، سعودی لائٹ اور ساؤنڈ ایکسپو‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور ’’مڈل ایسٹ میوزیمز اور ہیریٹج ایکسپو‘، دونوں ریاض کے ’فرنٹ ایگزیبشن اینڈ کانفرنس سینٹر‘‘ میں اکٹھے ہوں گے۔

ڈی ایم جی ایونٹ کے منتظمین نے بتایا ہے کہ اس ایکسپو میں500سے زیادہ نمائش کار اور اس صعنت سے تعلق رکھنے والے 23000 پروفیشنلز شرکت کریں گے۔ سرکیس کہواجیان جو ڈی ایم جی ایونسٹ کے انٹرٹینمنٹ پورٹ فولیو میں ایسوسی ایٹ نائب صدر ہیں،نے کہا ہے کہ تمام بڑے نمائش کاروں کا ایک چھت کے نیچے جمع ہونا سعودی عرب میں قائم ہونے والے شعبہ جات کی پختگی کا ایک اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفریحی مقامات سے لے کر لائیو ایونٹس اور میوزیمز اور ہیریٹج کے منصوبوں تک، مملکت اِن صنعتوں کے لیے ایک ایسا مقام بن گئی ہے جہاں سب یکجا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی اِن ایونٹس میں بڑی تعداد میں شرکت سے اس موقع کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے کیونکہ اس ورثے میں پیش رفت اور لائیو ایونٹ پروگرامنگ پوری مملکت میں اس کی ڈیمانڈ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقرر کردہ ہدف کے مطابق ثقافتی شعبہ 2030 تک مجموعی ملکی پیداوار میں تین فیصد حصہ ڈالے گا اور ملازمتوں کے 346000 مواقع پیدا کرے گا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی اور سعودی عرب کی وزارتِ سرمایہ کاری کے ساتھ مسلسل سٹریٹجک شراکت داریوں نے ایک صنعتی پلیٹ فارم کے طور پر ایکسپو کے کردار کو مضبوط کیا ہے جس سے سرمایہ کاری کو سہارا ملا ہے۔