زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا شہری کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا شہری کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا حکم شخصی وقار کی خلاف ورزی ہے اور اسے قانونی عمل کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور سپیشل جج اینٹی کرپشن پاکپتن کے اس …

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا شہری کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا حکم شخصی وقار کی خلاف ورزی ہے اور اسے قانونی عمل کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور سپیشل جج اینٹی کرپشن پاکپتن کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت شہری خالد حمید کو زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا پابند بنایا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ولدیت کے تنازعے یا دستاویزات میں مبینہ ردوبدل جیسے معاملات میں زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا شہری کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ جاری تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تفصیلی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے جیسا حساس اور نجی نوعیت کا ٹیسٹ صرف مخصوص جرائم جیسے زیادتی یا جنسی جرائم کے مقدمات میں قانوناً لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں ایسا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے دائر نجی کمپلینٹ میں اصل الزام جعلسازی اور کرپشن سے متعلق تھا، ولدیت یا نسب کا تعین مقدمے سے براہ راست متعلق نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جعلسازی جیسے جرائم کا تعین ڈی این اے ٹیسٹ سے نہیں بلکہ شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ذاتی آزادی اور پرائیویسی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔کسی شخص کو اس کی مرضی کے بغیر طبی عمل میں شامل کرنا بدنیتی، غیرقانونی اور انسانی وقار کے منافی ہے۔ولدیت پر بلاجواز سوال اٹھانا نہ صرف فرد کے لیے بلکہ اس کی والدہ اور خاندان کے لیے بھی سماجی بدنامی اور ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا حکم ’’شخصی وقار کی خلاف ورزی‘‘ ہے اور اسے قانونی عمل کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اس سے پہلے بھی متعدد فیصلوں میں شہری کی نجی زندگی کے احترام پر زور دیا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سپیشل جج اینٹی کرپشن پاکپتن اب کیس کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر قانون کے مطابق آگے بڑھائیں۔

مزید خبریں