زرعی اجناس کی عالمی قیمتوں میں 2026 کے دوران مجموعی طور پر معمولی کمی متوقع ہے،عالمی بینک

عالمی بینک نے کہاہے کہ زرعی اجناس کی عالمی قیمتوں میں 2026 کے دوران مجموعی طور پر معمولی کمی متوقع ہے۔ عالمی بینک کے زرعی قیمتوں کے اشاریے بارے رپورٹ کے مطابق سال 2026میں زرعی اجناس کی عالمی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی متوقع ہے،رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ خوراک اور زرعی خام مال کی قیمتیں عمومی طور پر مستحکم رہنے کی توقع ہے کیونکہ رسد میں اضافہ طلب کے …

اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ زرعی اجناس کی عالمی قیمتوں میں 2026 کے دوران مجموعی طور پر معمولی کمی متوقع ہے۔ عالمی بینک کے زرعی قیمتوں کے اشاریے بارے رپورٹ کے مطابق سال 2026میں زرعی اجناس کی عالمی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی متوقع ہے،رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ خوراک اور زرعی خام مال کی قیمتیں عمومی طور پر مستحکم رہنے کی توقع ہے کیونکہ رسد میں اضافہ طلب کے برابر رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں مشروبات کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ رسد میں اضافہ ہے۔ مجموعی طور پر قیمتوں کے حوالے سے خطرات متوازن ہیں۔ شدید موسمی حالات، امریکا سے منسلک اجناس خاص طور پر سویابین پر تجارتی کشیدگی میں کمی، اور پیداواری لاگت خصوصاً کھاد سازی کے لیے قدرتی گیس میں اضافہ قیمتوں کو اوپر لے جا سکتا ہے۔ دوسری جانب بائیو فیول کی طلب میں کمی اور عالمی معاشی سست روی قیمتوں کو نیچے دھکیل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی سرگرمیاں توقع سے کمزور رہنے سے اجناس کی طلب میں کمی آئے گی، جس سے خوراک کی قیمتوں پر دباؤ پڑے گا اورخاص طور پر خوردنی تیل اور بیف کی قیمتیں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی اجناس کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔ 2025 کی پہلی ششماہی میں ڈالر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کمزور ہوا، جس کے بعد استحکام آ گیا۔ چونکہ زیادہ تر اجناس کی قیمتیں ڈالر میں طے ہوتی ہیں، اس لیے کمزور ڈالر عام طور پر قیمتوں کو سہارا دیتا ہے جبکہ مضبوط ڈالر ان پر دباؤ ڈالتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف میں تبدیلیوں نے اجناس کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا کیا۔ خاص طور پر امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی نے سال کے دوسرے نصف میں سویابین کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے فرق کو بڑھایا اور تجارتی بہاؤ کو متاثر کیا، تاہم 2025 کے آخر میں کشیدگی میں کمی سے یہ فرق کم ہوا۔ رپورٹ میں زرعی اجناس کی قیمتوں پرموسمیاتی عوامل کابھی جائزہ لیاگیاہے اوربتایاگیاہے کہ لا نینا کمزور اور مختصر مدتی مظہر ہوگا تاہم اگر یہ زیادہ طاقتور یا طویل ثابت ہوا تو ارجنٹائن ، جنوبی برازیل اور امریکہ کے خلیجی ساحل جیسے اہم زرعی علاقوں میں زیادہ گرم اور خشک موسم پیدا ہو سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں مکئی، گندم اور سویابین جیسی اہم فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور قیمتیں موجودہ اندازوں سے زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایاگیاہےکہ 2025 میں کھاد کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجوہات میں مضبوط طلب، تجارتی پابندیاں اور پیداوار میں کمی شامل تھیں۔چین کی جانب سے نائٹروجن اور فاسفیٹ کھادوں کی برآمدی پابندیوں میں نرمی جاری رکھنے سے 2026 میں قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی کی توقع ہے۔