اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درآمدی بلوں، برآمدی نمو اور دیہی غربت میں اضافہ جیسے چیلنجز سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے زرعی ان پٹ انڈسٹری اور ایگرو پراسیسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو یہاں ماموں کانجن سے شوکت علی آرائیں کی قیادت میں ترقی پسند کسانوں کے وفد …
زرعی ان پٹ انڈسٹری اور ایگرو پراسیسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری انتہائی ضروری ہے، شہزاد علی ملک
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درآمدی بلوں، برآمدی نمو اور دیہی غربت میں اضافہ جیسے چیلنجز سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے زرعی ان پٹ انڈسٹری اور ایگرو پراسیسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
جمعرات کو یہاں ماموں کانجن سے شوکت علی آرائیں کی قیادت میں ترقی پسند کسانوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے خلا کو پر کرنے کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔
اس سرمایہ کاری سے زرعی اور صنعتی پیداوار کو بڑھانے، روزگار کے مواقع، برآمدات میں اضافہ اور اضافی ٹیکس محصولات کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت، لاکھوں ایکڑ غیر کاشت زمین کی دستیابی، سستی افرادی قوت، سازگار زرعی آب و ہوا اور سب سے بڑھ کر ہماری زمین میں فصلوں کی وسیع رینج کو اگانے کی صلاحیت کی بنیاد پر زرعی شعبہ ایف ڈی آئی کو راغب کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ اور زراعت کے ذیلی شعبے بھی سرمایہ کاری کے قابل عمل ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے کسی بھی زرعی صنعت کو قائم کرنے اور چلانے کی نسبت کارپوریٹ فارمنگ کرنا بہت آسان ہے۔
شہزاد علی ملک ستارہ امتیاز نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کیلئے سرمایہ کاروں کو کاروبار کرنے میں آسانیوں اور سازگار ماحول کا یقین دلانے کیلئے زرعی صنعت کی نسبت کارپوریٹ فارمنگ زیادہ آسان شعبہ ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ میں سرمایہ کار کو زمین کے حصول، زرعی مشینری، غیر کاشت شدہ زمین کی تیاری اور آبپاشی و آبی وسائل کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ۔ ہندوستان اور انڈونیشیا جیسے کئی ممالک نے زیادہ پیداوار والے بیجوں کی مقامی طور پرتیاری کے لیے غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا ہے اور ہمیں بھی اس ماڈل پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔









