زرعی ثقافتی ورثے کے نظام، مقامی علم اور روایتی طریقوں کو جدید زرعی پالیسیوں میں شامل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ماہرین

زرعی ثقافتی ورثے کے نظام، مقامی علم اور روایتی طریقوں کو جدید زرعی پالیسیوں میں شامل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ماہرین

فیصل آباد ۔ 26 مئی (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ ایک پالیسی مکالمے میں آسٹریلیا، امریکہ اور پاکستان کے ماہرین نے کہا ہے کہ زرعی ثقافتی ورثے کے نظام، مقامی علم اور روایتی طریقوں کو جدید زرعی پالیسیوں میں شامل کرتے ہوئے غذائی استحکام اور موسمیاتی سمارٹ زراعت کیلئے مشترکہ کاوشوں کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس مکالمے کا عنوان ’’پاکستان کے غذائی تحفظ اور لچک کے لیے ثقافتی ورثے کے نظام کا احیاء‘‘ تھا جس کی نظامت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایگریکلچر پالیسی، لاء اینڈ گورننس سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف کامران نے کی۔ اس سیشن کو پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پبلک پالیسی اور معاشی ترقی پر قائم آر اینڈ ڈی کلسٹر کا تعاون سے منعقد کیا گیا۔ پینل میں آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد اعجاز قریشی، واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی سے پروفیسر کلوندر گل اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مقامی ماہرین پروفیسر ڈاکٹر اصغر علی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور اور پروفیسر ڈاکٹر عظیم اقبال خان شامل تھے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر قریشی نے پالیسی سازی اور ماحولیاتی انتظام میں مقامی (انڈیجینس) علم کو شامل کرنے کے حوالے سے آسٹریلیا کے تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے زمین کے انتظام کے لیے کلچرل برننگ کے طریقوں کے ساتھ ساتھ بائیو سکیورٹی اور بارڈر مینجمنٹ سسٹمز میں مقامی طریقوں کو اجاگر کیا اور روایتی ماحولیاتی علم کو عصری گورننس کے فریم ورک میں ضم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ پروفسیر کلوندر گل نے اس بات پر زور دیا کہ ورثے میں ملے زرعی نظام ایک طرح سے زندہ ’’جین بینک‘‘ کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے جامعات اور تحقیقی اداروں پر زور دیا کہ وہ ریسرچ سینٹرز سے منسلک کمیونٹی سیڈ بینکوں اور شراکت دارانہ پودوں کی افزائش (پارٹیسیپیٹری پلانٹ بریڈنگ) کے ذریعے مقامی جرمز پلاسزم کو محفوظ بنائیں۔

پروفیسر اصغر علی نے کہا کہ زرعی ترقی کی پیمائش صرف پیداواری صلاحیت اور منافع کے اشاریوں سے نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں لچک، پائیداری اور زرعی ورثے کے نظام کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ پروفیسر عبدالغفور نے روایتی غذاؤں اور مقامی خوراک کے نظام کو فروغ دینے میں ویلیو ایڈیشن، معیار کی بہتری اور مارکیٹنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر عظیم اقبال خان نے موسمیاتی لچک اور مستقبل کی زرعی ترقی کے لیے اہم جینیاتی وسائل کے طور پر مقامی اقسام اور روایتی کاشتکاری کے تحفظ پر زور دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف کامران نے اس مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا اورکہا کہ مضبوط شواہد پر مبنی پالیسیوں کی سہولت کے لیے پاکستان میں زرعی ورثے کے نظام کے وسیع تنوع کے بارے میں مزید علم پیدا کرنے اور روایتی علم کو دستاویزی شکل دینا ناگزیر ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور غذائی قلت کے پیچیدہ چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے اس علم سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

مزید خبریں