زرعی شعبے کی بحالی وجدید تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے ، زراعت کو مستقبل میں ملکی معیشت کی بنیاد بنایا جائیگا، احسن اقبال

لاہور۔20جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرعی شعبے کی بحالی، طویل المدتی منصوبہ بندی اور جدید تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان زرعی شعبے میں خود کفیل بنے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، زرعی اختراعات کی سرپرستی حکومت کی اولین ترجیح ہے، زراعت کو مستقبل میں ملکی معیشت کی بنیاد بنایا جائیگا ۔ ان خیالات کا …

لاہور۔20جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرعی شعبے کی بحالی، طویل المدتی منصوبہ بندی اور جدید تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان زرعی شعبے میں خود کفیل بنے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، زرعی اختراعات کی سرپرستی حکومت کی اولین ترجیح ہے، زراعت کو مستقبل میں ملکی معیشت کی بنیاد بنایا جائیگا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز یہاں کپاس کے ریسرچ فارم کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پران کے ہمراہ معروف زرعی ماہر انجینئر جاوید سلیم قریشی بھی موجود تھے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آ ئی کے چار سالہ دور میں صوبوں کی عدم دلچسپی کے باعث نہ تو فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا اور نہ ہی معیاری بیج متعارف کرائے جا سکے ، کپاس، کینولا اور چاول جیسی اہم فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے آئندہ 10 سالہ منصوبہ بندی ناگزیر اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے، ہمیں فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ زرعی شعبہ میں آ گے بڑھنے کیلئے دنیا سے مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان زرعی شعبے میں خود کفیل بنے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، زرعی اختراعات کی سرپرستی حکومت کی اولین ترجیح اور زراعت کو مستقبل میں ملکی معیشت کی بنیاد بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئر جاوید سلیم قریشی نے 25 سال کی محنت سے کپاس کے بیج کی نئی قسم تیار کی ہے جن کے تیار کردہ موسمیاتی موافق کپاس کے بیج کی بدولت فی ایکڑ پیداوار 15 من سے بڑھ کر 40 سے 50 من تک جا سکتی ہے جو کسی انقلاب سے کم نہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ کینولا آئل کی پیداوار میں اضافے سے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت کی جا سکتی ہے، حالیہ بارشوں کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے نقصانات کے تخمینے اور آئندہ حکمت عملی کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے، این ڈی ایم اے اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے۔

مزید خبریں