وارث شاہ کی شاعری محض انسانی محبت اور جدائی کا لازوال اظہار نہیں بلکہ روحانی بیداری، ہمدردی، انصاف اور اخلاقی اصلاح کا گہرا پیغام بھی ہے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز کے زیر اہتمام وارث شاہ چیئر کے تحت منعقدہ دوسری بین الاقوامی وارث شاہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں وارث شاہ چیئر کے تحت دوسری بین الاقوامی وارث شاہ کانفرنس کا انعقاد

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 24 ستمبر (اے پی پی):وارث شاہ کی شاعری محض انسانی محبت اور جدائی کا لازوال اظہار نہیں بلکہ روحانی بیداری، ہمدردی، انصاف اور اخلاقی اصلاح کا گہرا پیغام بھی ہے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز کے زیر اہتمام وارث شاہ چیئر کے تحت منعقدہ دوسری بین الاقوامی وارث شاہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ وارث شاہ محض ایک عظیم شاعر ہی نہیں بلکہ پنجابی زبان، ادب اور ثقافتی شناخت کی ایک لازوال علامت ہیں۔ ان کی شاعری ہماری روایات کی وسعت، انسانی جذبات کی گہرائی اور دانائی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارث شاہ کے ادبی ورثے کا تحفظ اور آنے والی نسلوں میں پنجابی زبان کے فروغ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبت، جدائی اور دکھ کی داستان کے پس منظر میں وارث شاہ نے انسانی فطرت، سماجی ناانصافی، منافقت، عدم مساوات اور سچ کی تلاش جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے انسانی دکھ کو زبان دی اور ان سماجی رویوں کو بے نقاب کیا جو انسانی وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی نے وارث شاہ چیئر اسی مقصد کے تحت قائم کی ہے تاکہ ان کے پیغام کو فروغ دیا جا سکے اور ان کی حکمت کے موتیوں سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ یونیورسٹی آف فیصل آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ ملک نے کہا کہ نوجوان نسل کو وارث شاہ کی تحریروں اور فکر سے روشناس کرانے کے لیے جامعات، تحقیقی مراکز، تعلیمی اداروں اور جدید ادبی پلیٹ فارمز کے ذریعے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کاوشیں نوجوانوں کو اپنے ثقافتی ورثے کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، روحانیت، شناخت اور سماجی ذمہ داری جیسے اہم سوالات پر غور کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز پروفیسر ڈاکٹر شازیہ رمضان نے کہا کہ وارث شاہ کی فکر کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ فرد کی جذباتی دنیا کو معاشرے کو درپیش اخلاقی مسائل سے جوڑتے ہیں۔ ان کی شاعری انسان کو اپنے اندر جھانکنے، تکبر، نفرت، حسد اور خود غرضی پر قابو پانے اور محبت، عاجزی، ذکر اور اخلاص کی بنیاد پر اپنے خالق کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں امت مسلمہ کے لیے وارث شاہ کا پیغام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ریاض ورک نے کہا کہ پنجابی زبان صدیوں کی شاندار ادبی روایت سے مالا مال ہے اور وارث شاہ کو اس تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اور علمی مکالمے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ وارث شاہ کی خدمات اور فکر آنے والی نسلوں کے لیے قابل رسائی رہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر جسوندر سنگھ گل نے کہا کہ وارث شاہ کی ادبی بصیرت پنجاب کی حدود سے کہیں آگے اہمیت رکھتی ہے۔ ان کا کام انسانی تعلقات، ثقافتی اقدار اور سماجی حقائق کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارث شاہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہم پنجاب کی لسانی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ اصغر علی نظامی، ڈاکٹر محمد ایوب خان، ڈاکٹر انور، ڈاکٹر ثمینہ بتول اور ڈاکٹر کاشف شکیل نے کہا کہ وارث شاہ کا شاہکار ”ہیر“ آج بھی پنجابی ادب میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے اور خطے کی بھرپور ثقافتی روایات کا مؤثر اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارث شاہ کی ادبی خدمات جغرافیائی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہیں۔ سانول ڈھلوں نے ہیر وارث شاہ پیش کی جس نے حاضرین کو عظیم شاعر کی دانائی اور فکری بصیرت سے روشناس کرایا۔ اس موقع پر طلبہ نے ہیروارث شاہ پر پرفارمنس بھی پیش کی۔







