خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے سرکاری ملازمتوں کے لیے کمپیوٹر بیسڈ ایبلٹی ٹیسٹنگ نظام کا باقاعدہ آغاز کردیا

خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے صوبے میں سرکاری ملازمتوں کے لیے کمپیوٹر بیسڈ ایبلٹی ٹیسٹنگ نظام کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے

پشاور۔ 24 ستمبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے صوبے میں سرکاری ملازمتوں کے لیے کمپیوٹر بیسڈ ایبلٹی ٹیسٹنگ نظام کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے، جس کے تحت 24 ستمبر کو پہلی مرتبہ کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ منعقد کیے جارہے ہیں۔یہ اہم اقدام ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ایٹا) کے تعاون سے اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد سرکاری ملازمتوں کے امتحان کے لیے ٹیسٹنگ کے عمل کو جدید، تیز، شفاف اور محفوظ بنانا ہے۔نئے نظام کے تحت 24 ستمبر کو سینئر انسٹرکٹر (کرمنالوجی) اور لاء آفیسر کے ٹیسٹ منعقد ہورہے ہیں، جبکہ 25 ستمبر کو موبائل ایپلیکیشن ڈیولپر اور نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر کے لیے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ لیے جائیں گے۔کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ کا آغاز روایتی کاغذی امتحانات سے ڈیجیٹل نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے امتحانات کے انعقاد، نتائج کی تیاری اور بھرتی کے مجموعی عمل میں نمایاں تیزی آنے کی توقع ہے۔نئے نظام کے ذریعے سوالیہ پرچوں، جوابی شیٹس اور دیگر امتحانی مواد کی پرنٹنگ کی ضرورت کم ہوگی، جس سے کاغذ، پرنٹنگ، اسٹیشنری، ترسیل اور امتحانی مواد کی تیاری و ذخیرہ کرنے پر آنے والے اخراجات میں کمی آئے گی اور سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوگا۔کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ امتحانات کے سکیورٹی نظام کو بھی مزید مضبوط بنائے گی۔ امتحانی عمل میں انسانی مداخلت اور کاغذی مواد کی نقل و حرکت کم ہونے سے غیر منصفانہ ذرائع کے استعمال اور امتحانی بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مدد ملے گی۔یہ اقدام محض ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ سرکاری بھرتیوں کے نظام میں ایک جامع اصلاح ہے، جس کا مقصد امیدواروں کو زیادہ شفاف، محفوظ اور موثر ٹیسٹنگ ماحول فراہم کرنا اور میرٹ پر مبنی بھرتیوں کے عمل کو مزید مستحکم بنانا ہے۔پبلک سروس کمیشن کی جانب سے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ کا آغاز خیبرپختونخوا میں جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی مسابقتی امتحانات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کے دائرہ کار کو مستقبل میں مزید وسیع کیا جاسکے گا۔