زری پالیسی بیان، مرکزی بینک کا پالیسی ریٹ 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ،گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر کی پریس کانفرنس

کراچی۔ 28 جنوری (اے پی پی) مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر آخر جون 2019 تک 7.28 ارب ڈالر تھے جو 17جنوری 2020 تک بڑھ کر 11.73 ارب ڈالر پر آ گئے۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے منگل کو مرکزی بینک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ زری پالیسی کمیٹی (ایم پی …

کراچی۔ 28 جنوری (اے پی پی) مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر آخر جون 2019 تک 7.28 ارب ڈالر تھے جو 17جنوری 2020 تک بڑھ کر 11.73 ارب ڈالر پر آ گئے۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے منگل کو مرکزی بینک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے اور 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے کمیٹی کے اس نقطہ نظر کی عکاسی ہوتی ہے کہ مہنگائی کا منظرنامہ زیادہ تر پہلے جیسا ہی رہا ہے۔ ایک جانب مہنگائی کے اعدادوشمار زیادہ تر بلند رہے اور بنیادی طور پر غذائی قیمتوں کے دھچکوں اور یوٹیلٹی نرخوں میں ممکنہ اضافے کی بناءپر مہنگائی کو مختصر مدتی خطرات لاحق رہے ہیں۔ دوسری جانب کئی عوامل ایسے ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی پر دباﺅ بتدریج کم ہونے کی توقع ہے۔ ان میں مارکیٹ پر مبنی ایکسچینج ریٹ کے متعارف کیے جانے کے بعد ایکسچینج ریٹ میں حالیہ اضافہ اور جاری مالیاتی یکجائی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مجموعی طور پر مالی سال 20 کے لیے اسٹیٹ بینک کی اوسط مہنگائی کے لیے پیش گوئی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہ 11-12 فیصد ہے۔ ایم پی سی نے موجودہ زری پالیسی موقف کو آئندہ چھ تا آٹھ سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی کے وسط مدتی ہدف 5-7 فیصد کی حدود میں لانے کے حوالے سے بھی موزوں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنے میں ایم پی سی نے حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں اہم تبدیلیوں کے ساتھ ان سے متعلق پیش گوئیوں اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کے منظرنامے کو پیش نظر رکھا۔ ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ گذشتہ زری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد ہونے والی تبدیلیوں میں ایم پی سی نے 22نومبر 2019 کو ہونے والے گذشتہ اجلاس سے اب تک ہونے والی تین اہم تبدیلیوں کا ذکر کیا۔ سب سے پہلے جاری کھاتے کے خسارے میں نمایاں اور جاری کمی اور مارکیٹ پر مبنی ایکسچینج ریٹ نظام اپنائے جانے کے بعد زرمبادلہ مارکیٹ میں منظم حالات ملک کے بیرونی کھاتوں کو بہتر بناتے رہے جبکہ آئی بی اے – ایس بی پی کے کاروباری طبقے کے اعتماد کے سروے کی مسلسل تیسری لہر میں معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے کاروباری طبقے کے نقطہ نظر میں بہتری دیکھی گئی۔ مالیاتی تبدیلیاں درست راہ پر گامزن اور آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والے پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں سے ہم آہنگ رہیں جس سے مجموعی معاشی اصلاحاتی احساسات میں تیزی آئی۔ مرکزی بینک کے گورنر نے کہا کہ حقیقی شعبہ میں اہم فصلوں کی پیداوار کے تازہ ترین تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کپاس کے سواءخریف کی تمام فصلوں کی پیداوار توقع کے مطابق رہی۔ رسدی دھچکوں کے باعث کپاس کی پیداوار کے تخمینے میں کمی کی گئی۔ بڑے پیمانے پر اشیا سازی (ایل ایس ایم) سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمداتی اور درآمدی مسابقت پر مبنی صنعتوں میں معاشی سرگرمی بڑھ رہی ہے جبکہ ملکی نوعیت کی صنعتیں بدستور سست روی کا شکار ہیں۔ خاص طور پر ایل ایس ایم کے اعداد وشمار سے ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، انجینئرنگ کے سامان، ربڑ کی مصنوعات، سیمنٹ اور کھاد میں تیزی جبکہ گاڑیوں، الیکٹرانکس، غذا، کیمیکلز اور پیٹرولیم مصنوعات میں سست روی سامنے آئی۔ بنیادی طور پر کپاس کی پیداوار کو پہنچنے والے منفی رسدی دھچکوں اور اب تک ایل ایس ایم میں سکڑاو کی بنا پر امکان ہے کہ اسٹیٹ بینک مالی سال 20 کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی میں کمی کردے گا۔ تاہم سرگرمیوں کے دستیاب ماہانہ اظہاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ بیشتر معاشی شعبوں میں سست روی اپنی پست ترین سطح تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ مہینوں میں بتدریج بحالی متوقع ہے۔ ایم پی سی نے ایل ایس ایم اشاریے کے معیار کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی جو معاشی سرگرمی میں سست روی کو بڑھا کر بیان کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی شعبہ میں مالی سال 20 کی پہلی ششماہی کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ 75 فیصد کمی کے ساتھ 2.15 ارب ڈالر پر آ گیا، جس کا سبب درآمدات میں نمایاں کمی اور برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلات زر دونوں میں معتدل نمو ہے۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ جولائی تا دسمبر مالی سال 20 میں چاول، قدر اضافی کی حامل ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات ، مچھلی اور گوشت سمیت اہم اشیاءکی برآمدی مقدار میں قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صورت حال زیادہ مسابقت کی حامل شرح مبادلہ اور برآمدی شعبوں کی جانب سے ترغیبی قرضہ اسکیموں کو استعمال کرنے کے فوائد کی عکاس ہے۔ سرمایہ کھاتے میں بھی بیرونی پورٹ فولیو سرمایہ کاری اور بیرونی براہ راست سرمایہ کاری رقوم کی آمد کے باعث مسلسل بہتری کا رجحان رہا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سازگار حالات کی بدولت دسمبر 2019 کے اوائل میں بین الاقوامی صکوک بانڈز کی مد میں 1.0 ارب امریکی ڈالر کی واپسی کے باوجود اسٹیٹ بینک کو اپنے زرمبادلہ ذخائر بڑھانے میں سہولت ملی۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر آخر جون 2019 تک 7.28 ارب ڈالر تھے جو 17جنوری 2020 تک بڑھ کر 11.73 ارب ڈالر پر آ گئے۔ اس طرح ذخائر میں 4.45 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور مالی سال 20 کے ابتدائی چھ مہینوں میں اسٹیٹ بینک کے قلیل مدتی واجبات میں 3.82ارب ڈالر کمی ہوئی۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے خالص بین الاقوامی ذخائر (NIR) کی پوزیشن میں خاصی بہتری آ چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زری پالیسی کمیٹی نے رائے ظاہر کی کہ بیرونی پورٹ فولیو رقوم کی حالیہ آمد قرض کی ادائیگی کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ کے بارے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے ہوئے احساس کی عکاس ہے۔ ایسی رقوم کی آمد سرکاری تمسکات (سیکورٹیز) کی طلب میں اضافے کے باعث سرکاری قرضے پر شرحِ سود گھٹا دیتی ہے، بازار سرمایہ میں گہرائی لاتی ہے اور ملکی بینکوں کو یہ موقعمل جاتا ہے کہ وہ اپنے وسائل نجی شعبے کو بطور قرض جاری کر سکیں۔ کمیٹی نے تذکرہ کیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کی موزونیت میں بہتری کا سبب جاری کھاتے میں بہتری ہے، نہ کہ پورٹ فولیو رقوم کی آمد، اور جاری رقوم کی آمد مجموعی قابلِ فروخت سرکاری قرضے میں صرف 3.8 فیصد ہے۔ چنانچہ ایسی رقوم کی موجودہ سطح پر آمد محدود خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ زری پالیسی کمیٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے تبدیلیوں پر بدستور گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور اگر کچھ رقوم کا اخراج ہوا بھی تو منظم انداز میں اس کے بندوبست کے لیے کافی رقوم بفرز کی صورت میں اس کے پاس موجود ہیں۔ کمیٹی کی رائے تھی کہ زری پالیسی بدستور مہنگائی وسط مدتی منظرنامے پر مبنی رہے گی۔ ڈاکٹر رضا باقر نے مالیاتی شعبہ کے حوالے سے کہا کہ مالی سال کے دوران مالیاتی یکجائی اب تک درست راستے پر گامزن رہی ہے اور مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری بہتری لائی ہے۔ مالی سال 20 کی پہلی ششماہی کے دوران ٹیکس وصولی میں گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جہاں تک اخراجات کا تعلق ہے، غیر سودی اخراجاتِ جاریہ پر سختی سے قابو پایا گیا ہے، سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے لیے وفاقی حکومت نے مالی سال 20 کی پہلی ششماہی کے دوران 300 ارب روپے جاری کیے جو گذشتہ سال کی اسی مدت کے لیے 187 ارب روپے تھے۔ سرکاری اخراجات میں اس اضافے سے توقع ہے کہ کاروباری خصوصا تعمیرات سے منسلک سرگرمیوں کو سہارا ملے گا۔ کمیٹی نے زری پالیسی کے نقطہ نظر سے زور دے کر کہا کہ مارکیٹ کے احساسات کو موثر طور پر قابو میں رکھنے اور مہنگائی کا منظرنامہ بہتر بنانے میں بنیادی مدد مالیاتی دور اندیشی کو برقرار رکھنے سے ملے گی۔ انہوں نے زری پالیسی اور مہنگائی کا منظرنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی تا 17جنوری مالی سال 20 کے دوران نجی شعبے کے قرضے میں گذشتہ برس کی اسی مدت کے 8.5 فیصد کی نسبت 2.2فیصد اضافہ ہوا ۔ یہ سست روی بڑی حد تک پست معاشی سرگرمی کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم اسی مدت کے دوران اسٹیٹ بینک کی برآمدی مالکاری اسکیم اور طویل مدتی مالکاری سہولت برائے برآمد کنندگان کے تحت لیے گئے قرضوں میں 20.6 فیصد اور 13.2 فیصد اضافہ ہوا، جس سے برآمدات کی حالیہ نمو کو تقویت ملی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے بتایا کہ زری پالیسی کمیٹی نے کہا ہے کہ مہنگائی کے حالیہ اعداد وشمار اضافے کے عکاس رہے ہیں۔ نومبر اور دسمبر 2019 کے دوران قومی صارف اشاریہ قیمت (سی پی آئی) مہنگائی بڑھ کر 12.7 فیصد اور 12.6 فیصد (سال بسال بنیاد پر) ہوگئی، جو بڑی حد تک رسد کے عارضی تعطل اور مقررہ قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ سے منتخب غذائی اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی تو غذائی اشیاءکی بلند قیمتیں اجرت میں تیز اضافے کی طلب اور اجرت و قیمت کے چکر کے ممکنہ خطرات پر منتج ہوں گی۔ تاہم دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ ان رسدی دھچکوں سے مہنگائی پر ایسے دور ثانی کے اثرات سامنے نہیں آئے ہیں اور مہنگائی کی توقعات خاصی حد تک قابو میں ہیں۔ نتیجتاً، زری پالیسی کمیٹی نے صارف اشاریہ قیمت میں حالیہ اضافے کو نوعیت کے اعتبار سے بنیادی طور پر عارضی قرار دیا۔ زری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ پیش بینی کی بنیاد پرحقیقی شرح سود دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے مقابلے اور پاکستانی تجربے کے تناظر میں بلند نہیں۔