سائنس اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3 ارب 56 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد کی رقم مختص

سائنس اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3 ارب 56 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد کی رقم مختص

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی) کے تحت حکومت نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق، اختراع اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے مالی سال 27-2026 کے دوران سائنس اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3 ارب 56 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد کی رقم مختص کر دی ہے۔پی ایس ڈی پی کی دستاویزات کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی ڈویژن کے تحت مجموعی طور پر 26 ارب 68 کروڑ 83 لاکھ روپے لاگت کے 23 جاری منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان منصوبوں پر 30 جون 2026 تک 15 ارب 63 کروڑ 39 لاکھ روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 3 ارب 56 کروڑ 71 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ان اہم منصوبوں میں صنعتی اور طبی مقاصد کے لیے کینابس (ہیمپ) کی تجرباتی کاشت و پراسیسنگ، حیاتیاتی عوامل کی جین ایڈیٹنگ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے سرٹیفکیشن مراعاتی پروگرام، پاک-کوریا سولر فوٹو وولٹائیک ٹیسٹنگ سہولت اور پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں جدید مینوفیکچرنگ اور ریورس انجینئرنگ مراکز کا قیام شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن کے فروغ کے لیے متعدد منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جن میں سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن فیسلیٹیشن سینٹر، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ سہولت کی اپ گریڈیشن اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں چپ ڈیزائن سینٹر کا قیام بھی شامل ہے۔پی ایس ڈی پی کے مطابق سمندری تحقیق کے شعبے میں گوادر میں اوشیانوگرافک ریسرچ سب اسٹیشن کی مضبوطی، سمندری پانی کی دراندازی، سطح سمندر میں اضافے، ساحلی کٹاؤ اور زمین کے دھنساؤ کی نگرانی جیسے منصوبے بھی جاری ہیں جن کا مقصد ساحلی علاقوں کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر معلومات فراہم کرنا ہے۔

دستاویزات کے مطابق طبی آلات و ڈیوائسز انوویشن سینٹر، مسابقتی تحقیقی پروگرام، سٹیم پاکستان فیز-II، سطحی انجینئرنگ کے تحقیقی مرکز اور نایاب زمینی عناصر، قیمتی دھاتوں اور اہم معدنیات کی تلاش و استخراج جیسے منصوبے ملک میں سائنسی تحقیق اور صنعتی خودکفالت کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔دستاویزات کے مطابق طبی کینابس گرین ہاؤسز، قومی ہیمپ و کینابس تجزیاتی لیبارٹری اور قومی صنعتی ہیمپ و میڈیسنل کینابس اتھارٹی کے قیام کا منصوبہ بھی جاری ہے، جس کے لیے آئندہ مالی سال میں 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔