سائیلیج مویشیوں کے لیے معیاری اور محفوظ چارے کا بہترین ذریعہ ہے، ڈاکٹر محمد افضل

سائیلیج مویشیوں کے لیے معیاری اور محفوظ چارے کا بہترین ذریعہ ہے ،سائیلیج سبز چارے کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کا ایک جدید اور سائنسی طریقہ ہے۔

سیالکوٹ ۔ 10 جون (اے پی پی):سائیلیج مویشیوں کے لیے معیاری اور محفوظ چارے کا بہترین ذریعہ ہے ،سائیلیج سبز چارے کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کا ایک جدید اور سائنسی طریقہ ہے۔ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سمبڑیال ڈاکٹر محمد افضل نے (آج) بدھ کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سائیلیج مویشیوں کے لیے معیاری اور محفوظ چارے کا بہترین ذریعہ ہے اور سائیلیج سبز چارے کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کا ایک جدید اور سائنسی طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عمل میں چارے کو ہوا کی عدم موجودگی میں خمیر کیا جاتا ہے، جس سے اس کی غذائی خصوصیات برقرار رہتی ہیں اور اسے کئی ماہ تک استعمال کے قابل رکھا جا سکتا ہے، اس عمل کو سائیلنگ کہا جاتا ہے، پاکستان میں موسمی تبدیلیوں، خشک سالی اور چارے کی قلت کے باعث سائیلیج کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے اور یہ مویشی پال حضرات کے لیے سال بھر معیاری خوراک کی دستیابی کو یقینی بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سردیوں، خشک موسم یا سبز چارے کی کمی کے دوران سائیلیج جانوروں کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، درست طریقے سے تیار کیا گیا سائیلیج چارے میں موجود توانائی، پروٹین، وٹامنز اور دیگر غذائی اجزا کو بڑی حد تک محفوظ رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیلیج جانوروں کے لیے خوش ذائقہ اور آسانی سے ہضم ہونے والی خوراک ہے، جس سے خوراک کا استعمال بہتر ہوتا ہے، متوازن اور معیاری خوراک کی فراہمی جانوروں کی صحت بہتر بناتی ہے، جس کے نتیجے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ سائیلیج کے لیے مکئی سب سے موزوں فصل سمجھی جاتی ہے، اس کے علاوہ جوار، باجرہ اور بعض اقسام کی گھاس بھی استعمال کی جا سکتی ہیں، مکئی کی فصل اس وقت کاٹی جائے جب دانے دودھیا مرحلے سے گزر کر ڈو میں داخل ہو چکے ہوں، اس مرحلے پر غذائیت اور نمی کا تناسب بہترین ہوتا ہے، فصل کو چیفر مشین کے ذریعے تقریبا ایک سے دو سینٹی میٹر کے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جائے تاکہ دبائی اور خمیر کا عمل بہتر ہو سکے،دبائی کٹے ہوئے چارے کو گڑھے، بنکر یا سائیلیج بیگ میں ڈال کر اچھی طرح دبایا جائے تاکہ اندر موجود تمام ہوا خارج ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ مناسب دبائی معیاری سائیلیج کی بنیادی شرط ہے، چارے کو مضبوط پلاسٹک شیٹ سے مکمل طور پر ہوا بند کر دیا جائے تاکہ باہر کی ہوا اندر داخل نہ ہو اور خمیر کا عمل درست انداز میں جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہچارے میں نمی کی مقدار 65 سے 70 فیصد کے درمیان ہونی چاہیے،جتنی بہتر دبائی ہوگی سائیلیج کا معیار اتنا ہی بہتر ہوگا،سائیلیج کو کم از کم 40 سے 45 دن تک مکمل طور پر بند رکھنا ضروری ہے تاکہ خمیر کا عمل مکمل ہو سکے،سائیلیج کھولنے کے بعد روزانہ ضرورت کے مطابق استعمال کریں اور کھلے حصے کو دوبارہ اچھی طرح ڈھانپ دیں، سائیلیج صرف چارہ محفوظ کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ جدید ڈیری اور لائیو اسٹاک فارمنگ کی ایک کامیاب حکمت عملی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ معیاری سائیلیج جانوروں کی بہتر صحت، زیادہ دودھ و گوشت کی پیداوار اور فارم کی بہتر معاشی کارکردگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔