واشنگٹن ۔17اکتوبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے جان بولٹن پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔شنہوا کے مطابق یہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ٹرمپ مخالف کسی نمایاں شخصیت پر تیسرا مقدمہ ہے۔وفاقی گرینڈ جیوری نے ریاست میری لینڈ کی ضلعی عدالت میں بولٹن پر 18 الزامات عائد کیے، جن میں آٹھ الزامات قومی دفاعی معلومات کی …
سابق امریکی قومی سلامتی مشیر جان بولٹن پر فردِ جرم عائد

مزید خبریں
واشنگٹن ۔17اکتوبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے جان بولٹن پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔شنہوا کے مطابق یہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ٹرمپ مخالف کسی نمایاں شخصیت پر تیسرا مقدمہ ہے۔وفاقی گرینڈ جیوری نے ریاست میری لینڈ کی ضلعی عدالت میں بولٹن پر 18 الزامات عائد کیے، جن میں آٹھ الزامات قومی دفاعی معلومات کی ترسیل اور دس الزامات اُن معلومات کو رکھنے سے متعلق ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، بولٹن پر "خفیہ معلومات کے غلط استعمال سے متعلق سنگین جرائم” کا الزام ہے۔بولٹن کے وکیل ایبی لوئل نے سی این این کو دیے گئے بیان میں کہا کہ سابق سفیر بولٹن نے دیگر کئی سرکاری اہلکاروں کی طرح ڈائری لکھی یہ کوئی جرم نہیں، ہم ایک بار پھر ثابت کریں گے کہ انہوں نے کوئی معلومات غیر قانونی طور پر شیئر یا محفوظ نہیں کیں۔جان بولٹن نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ وہ صدر ٹرمپ کی مبینہ انتقامی مہم کا نشانہ بن رہے ہیں، جو ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اس سال کے اوائل میں ایف بی آئی نے بولٹن کے میری لینڈ میں واقع گھر اور واشنگٹن، ڈی سی کے دفتر پر چھاپے مارے تھے، جہاں سے "خفیہ”، "سیکرٹ” اور "کانفیڈینشل” مارک شدہ متعدد دستاویزات برآمد ہوئیں۔
یہ تازہ فردِ جرم اس وقت سامنے آئی ہے جب اس سے قبل سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز پر بھی مشرقی ورجینیا کی ضلعی عدالت میں الزامات عائد کیے گئے تھے۔یاد رہے کہ جان بولٹن انتظامیہ چھوڑنے کے بعد سے صدر ٹرمپ کے کھلے ناقد رہے ہیں اور انہیں "صدارت کے لیے نااہل” قرار دے چکے ہیں۔








