لندن ۔ 6 جولائی (اے پی پی) سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کلثوم نواز کے ہوش میں آتے ہی وطن واپسی کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان انہوں نے نیب کورٹ فیصلے کے بعد جمعہ کو مریم نواز کے ہمراہ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی میری اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو ہوش آتا ہے ، میں ان سے سلام دعا …
سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی مریم نواز کے ہمراہ لندن میں پریس کانفرنس

مزید خبریں
لندن ۔ 6 جولائی (اے پی پی) سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کلثوم نواز کے ہوش میں آتے ہی وطن واپسی کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان انہوں نے نیب کورٹ فیصلے کے بعد جمعہ کو مریم نواز کے ہمراہ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی میری اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو ہوش آتا ہے ، میں ان سے سلام دعا کر کے وطن واپس چلا جاﺅںگا۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جو جدوجہد میں نے شروع کی تھی اس کے نتیجے میں مجھے پھولوں کے ہار نہیں پہنائے جائیں گے، یہ ایک مشکل جدوجہد تھی اور اس پورے دورانیے میں ایک مرتبہ نہیں ، دو مرتبہ نہیں بلکہ متعدد بار مجھے یہ پیغام دیا گیا کہ میں اور مریم نواز ملک چھوڑ کر لندن چلے جائیں، چند ماہ قبل جب میں لندن میں تھا تو مجھے یہ پیغام ملا کہ آپ پاکستان نہ آئیں اور اپنی اہلیہ کا علاج کروائیں کیس خود بخود دم توڑ جائے گا، گو کہ میری ذات کے لیے یہ راستہ آسان تھا لیکن میں نے یہ بات نہیں مانی کیونکہ میں نے اپنے لیے یا اپنی بیٹی کے لیے نہیں سوچا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے مقدمے اور فیصلے ہی نہیں بلکہ میرے خلاف ہر وہ ہتھکنڈہ اپنایا گیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صرف 109 پیشیاں ہی نہیں بھگتیں بلکہ اپنے خلاف غداری کے فتوے بھی سنے، مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں اور کارکنوں پر بدترین جبر بھی برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس جدوجہد کا میں نے آغاز کیا ہے اس میں اسی طرح کے فیصلے آتے ہیں اور اسی طرح کی سزائیں بھی دی جاتی ہیں، کوئی پھانسی چڑھتا ہے، کوئی جلاوطن ہوتا ہے، کسی کو ہتھکڑیاں لگتی ہیں، کوئی قلعوں میں قید ہوتا ہے، کسی کو ہائی جیکر قرار دیا جاتا ہے، کسی کو وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کیا جاتا ہے، کوئی تاحیات نااہل قرار پاتا ہے، سیاسی اور بعض مذہبی جماعتوں سے دھرنے دلوائے جاتے ہیں، وزیراعظم پر استعفیٰ دینے کے لیے دباﺅ ڈالا جاتا ہے، میڈیا کو جبرا خاموش کرایا جاتا ہے، سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کے جرم کا ارتکاب ہوتا ہے، ورکروں کی وفاداریاں دھونس دھاندلی کے زور پر زبردستی تبدیل کرائی جاتی ہیں، انتخابی امیدوار بھی نااہل کروائے جاتے ہیں ۔سینیٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو شیر کے نشان سے محروم کر دیا جاتا ہے، پھر بلوچستان کی حکومت گرائی جاتی ہے اور ایک گمنام شخص کو سینیٹ کا چیئرمین بنا دیا جاتا ہے۔








