سات ہزارکاروبار پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک ہوچکے ہیں، ٹیئر۔ون میں شامل ریٹیل آوٹ لیٹس کو رجسٹرڈ کرانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے، ایف بی آر حکام

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے پوائنٹ آف سیل نظام کے ساتھ اب تک 7 ہزارکے قریب کاروبارمنسلک ہوچکے ہیں جبکہ ٹیئر۔ون میں شامل ریٹیل آوٹ لیٹس کو رجسٹرڈ کرانے کی آخری تاریخ 31 اگست 2020ء ہے۔ ایف بی آر کے حکام کے مطابق پوائنٹ آف سیل نظام پر عمل درآمد جاری ہے، اس نظام کے تحت اب تک 7 ہزار …

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے پوائنٹ آف سیل نظام کے ساتھ اب تک 7 ہزارکے قریب کاروبارمنسلک ہوچکے ہیں جبکہ ٹیئر۔ون میں شامل ریٹیل آوٹ لیٹس کو رجسٹرڈ کرانے کی آخری تاریخ 31 اگست 2020ء ہے۔ ایف بی آر کے حکام کے مطابق پوائنٹ آف سیل نظام پر عمل درآمد جاری ہے، اس نظام کے تحت اب تک 7 ہزار سے زائد کاروبار رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، ایف بی آر نے معاشی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کی صورت میں اس کی تعداد کو پہلے 15 ہزار اورپھر اسے بتدریج 25 ہزار تک پہنچانے کا ہدف مقررکیا ہے ۔ اس نظام کے تحت ریٹیل سٹورز پرخریداری کرتے وقت ہی رسید کی کاپی خود کارنظام کے تحت ایف بی آر کے نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس نظام سے متعلقہ شکایات کا ازالہ بھی کیا جارہا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق اس نظام کا دائرہ کار بتدریج پورے ملک تک پھیلایا جارہاہے۔ ایف بی آر نے ایک دفعہ پھر تمام بڑے ریٹیلرز کو یا ددہانی کرائی ہے کہ وہ ایف بی آر کے پی او ایس نظام کے ساتھ 31 اگست 2020 تک منسلک ہوجائیں ۔ ایسے تمام بڑے ریٹیلرز جن کے ملک بھر میں چین سٹورز ہیںِِِِ، ائیر کنڈیشنڈ شاپنگ مالز میں واقع ہیں ، ان کا بجلی کا بل پچھلے سال بارہ لاکھ روپے سے تجاوز کر چکا ہو، دوکان کا سائز ایک ہزار مربع فٹ یا اس سے زائد ہو یا پھر ایسے ریٹیلرز جو کہ بڑی تعداد میں تھوک کے حساب سے اشیاءکی درآمد یا سپلائی کرتے ہیں ان سب کے لئے لازم ہے کہ وہ 31 اگست 2020 تک اپنے تمام ریٹیل مراکز پی او ایس نظام کے ساتھ منسلک کر لیں ۔ ایف بی آر کے مطابق آخری تاریخ گزرنے کے بعد ان پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور جرمانہ کی ادائیگی کے بعد مزید خلاف ورزی پر ایسے تمام ریٹیل مراکز کو بند کر دیا جائے گا۔

مزید خبریں