اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سو سال سے زائد تاخیر کے بعد زمین کے انتقالات کے نفاذ سے متعلق دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ غیر معمولی و غیر واضح تاخیر اور متنازعہ نوعیت کے معاملات میں ریونیو حکام کو ریکارڈ کی اصلاح کا اختیار حاصل نہیں، ایسے معاملات کا فیصلہ صرف سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔ وفاقی آ ئینی عدالت کی جانب …
سال سے زائد تاخیر سے زمین کے انتقالات کے نفاذ سے متعلق دائر درخواست مسترد، غیر معمولی و غیر واضح تاخیر اور متنازعہ نوعیت کے معاملات میں ریونیو حکام کو ریکارڈ کی اصلاح کا اختیار حاصل نہیں، وفاقی آئینی عدالت
اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سو سال سے زائد تاخیر کے بعد زمین کے انتقالات کے نفاذ سے متعلق دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ غیر معمولی و غیر واضح تاخیر اور متنازعہ نوعیت کے معاملات میں ریونیو حکام کو ریکارڈ کی اصلاح کا اختیار حاصل نہیں، ایسے معاملات کا فیصلہ صرف سول عدالت ہی کر سکتی ہے۔
وفاقی آ ئینی عدالت کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فائز اللہ خان اور دیگر کی جانب سے دائر ایف سی پی ایل اے نمبر 137/2025 کی سماعت کے بعد لاہور ہائی کورٹ، ملتان بنچ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ ان کے پیش رو اور بعض پروفارما فریقین 1907 اور 1913 میں منظور شدہ انتقالات کی بنیاد پر متنازعہ اراضی کے مالکان تھے جو ایک مجاز سول عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر منظور کئے گئے تھے تاہم یہ انتقالات تاحال ریکارڈ آف رائٹس میں نافذ نہیں ہو سکے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ریونیو حکام کی غفلت کے باعث یہ انتقالات نافذ نہ ہو سکے اور اب ان کے نفاذ میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزاروں نے پہلی بار سال 2020 میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) لیہ کے سامنے انتقالات کے نفاذ کی درخواست دائر کی جسے مسترد کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایڈیشنل کمشنر نے اپیل منظور کرتے ہوئے انتقالات کے نفاذ کا حکم دیا تاہم بورڈ آف ریونیو پنجاب نے نظرثانی میں یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا حکم بحال کر دیا۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی آئینی درخواست خارج کر دی۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ ایک صدی سے زائد عرصہ تک غیر نافذ رہنے والے انتقالات کو محض کلیریکل یا حسابی غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس طویل مدت میں متعدد لین دین، انتقالِ ملکیت اور تیسرے فریق کے حقوق پیدا ہو چکے ہو سکتے ہیں، جنہیں سنے بغیر کوئی فیصلہ دینا اصولِ قدرتی انصاف کے منافی ہوگا۔
عدالت نے واضح کیا کہ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ریونیو حکام کے اختیارات محدود ہیں اور متنازعہ حقِ ملکیت یا پیچیدہ حقائق کے تعین کا اختیار صرف سول عدالت کو حاصل ہے۔ عدالت کے مطابق اگرچہ ریونیو اندراجات بذاتِ خود حقِ ملکیت پیدا نہیں کرتیں تاہم قانون کے تحت ان کی درستگی کا ایک قرینہ موجود ہوتا ہے جسے مناسب عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے ایک صدی سے زائد تاخیر کی کوئی معقول وضاحت پیش نہیں کی گئی لہٰذا ان کا دعویٰ اصولِ تاخیر (laches) اور رضا مندی (acquiescence) کی زد میں آتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ آئینی دائرہ اختیار کے تحت ایسے متنازعہ اور حقائق پر مبنی معاملات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ان وجوہات کی بنا ء پر وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں کوئی قابلِ سماعت قانونی نکتہ موجود نہیں۔









