سال 2025 پاکستانی روپے کے لیے استحکام کا مظہر، ڈالر کے مقابلے میں معمولی اتار چڑھاؤ

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سال 2025 پاکستانی معیشت بالخصوص قومی کرنسی کے لیے نسبتاً استحکام کا سال ثابت ہوا، جہاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں محدود کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 2025 کے دوران زرِ مبادلہ کی منڈی میں غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں نہیں آیا، جو ایک مثبت معاشی اشارہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ایک …

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سال 2025 پاکستانی معیشت بالخصوص قومی کرنسی کے لیے نسبتاً استحکام کا سال ثابت ہوا، جہاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں محدود کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 2025 کے دوران زرِ مبادلہ کی منڈی میں غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں نہیں آیا، جو ایک مثبت معاشی اشارہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں صرف 1 روپے 59 پیسے کا اضافہ ہوا۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر سال 2025 کے آغاز پر 278 روپے 53 پیسے پر موجود تھا، جو سال کے اختتام پر بڑھ کر 280 روپے 12 پیسے تک پہنچا۔ اس معمولی اضافے کو ماہرین روپے کے مجموعی استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں۔اسی طرح اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں محدود اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایک سال کے دوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر 1 روپے 56 پیسے مہنگا ہوا، جہاں اس کی قیمت 279 روپے 59 پیسے سے بڑھ کر 281 روپے 15 پیسے تک جا پہنچی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران روپے میں استحکام کی بڑی وجوہات میں مؤثر مانیٹری پالیسی، درآمدات میں نسبتاً کمی، برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں بہتری، اور مالی نظم و ضبط شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی اور زرمبادلہ کے ذخائر کے بہتر انتظام نے کرنسی مارکیٹ کو سہارا دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی اصلاحات، غیر ضروری درآمدات پر کنٹرول اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی نے بھی روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عالمی سطح پر تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں نسبتاً استحکام کا فائدہ بھی پاکستانی معیشت کو پہنچا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کا یہ استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور مہنگائی پر قابو پانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جو مجموعی طور پر ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

مزید خبریں