سبز معیشت کے فروغ کےلئے جراتمندانہ پالیسیوں،موثر مالیاتی حکمت عملی اور مقامی جدت طرازی کو یکجا کرنا ناگزیر ہے، شاہد عمران
سبز معیشت کے فروغ کےلئے جراتمندانہ پالیسیوں،موثر مالیاتی حکمت عملی اور مقامی جدت طرازی کو یکجا کرنا ناگزیر ہے، شاہد عمران

مزید خبریں
لاہور۔31مئی (اے پی پی):وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ ملک میں سبز معیشت کے فروغ کےلئے جراتمندانہ پالیسیوں،موثر مالیاتی حکمت عملی اور مقامی جدت طرازی کو یکجا کرنا ناگزیر ہے،بائیو گیس،بائیو فرٹیلائزر،ڈرِپ اریگیشن،مینگرووز کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ فصلوں کے فروغ سے زرعی شعبہ نہ صرف ماحول دوست بلکہ زیادہ منافع بخش بھی بن سکتا ہے۔
اتوار کو میجر ریٹارڈ چوہدری محمد رضا آرائیں کی سربراہی میں ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد عمران نے کہا کہ پاکستان کے پاس شمسی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے وسیع مواقع، زرعی باقیات اور نوجوان افرادی قوت موجود ہےجن سے فائدہ اٹھا کر توانائی کے بحران اور موسمیاتی چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گھریلو اور زرعی شمسی توانائی کے منصوبوں، آسان قرضوں اور مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں ہوا سے توانائی کے منصوبے،جدید ٹرانسمیشن نظام،توانائی کی بچت،ماحول دوست عمارتیں اور الیکٹرک دو اور تین پہیہ گاڑیاں کم لاگت اور کم آلودگی والی ترقی کو فروغ دے سکتی ہیں۔








