اسلام آباد ۔ 19 جون (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں کے اربوں روپے کے نقصان کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے، پی آئی اے جیسے قومی ادارے کو فعال اور منافع بخش بنانے کےلئے انتظامی اصلاحات تیز کرنے کے ساتھ ساتھ تمام موجود وسائل کا نہایت شفاف طریقے سے بہترین استعمال یقینی بنایا جائے۔ وہ جمعہ کو یہاں پاکستان انٹرنیشنل …
سرکاری اداروں کے اربوں روپے کے نقصان کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے، وزیراعظم عمران خان کا پی آئی اے میں اصلاحات کے حوالہ سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 جون (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں کے اربوں روپے کے نقصان کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے، پی آئی اے جیسے قومی ادارے کو فعال اور منافع بخش بنانے کےلئے انتظامی اصلاحات تیز کرنے کے ساتھ ساتھ تمام موجود وسائل کا نہایت شفاف طریقے سے بہترین استعمال یقینی بنایا جائے۔ وہ جمعہ کو یہاں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں اصلاحات کے حوالہ سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں مشیر برائے ہوابازی غلام سرور، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ برائے نجکاری میاں محمد سومرو، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاونِین خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، سیّد ذوالفقار عباس بخاری، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری، سی ای او پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک و دیگر سینئر افسران شریک تھے۔ اجلاس میں قومی ایئر لائنز کو نقصانات سے بچانے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے منافع بخش ادارہ بنانے کےلئے کی جانے والی اصلاحات میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں ادارے کے نقصانات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی اور آپریشنل سطح پر ادارہ بغیر کسی نقصان اٹھائے پروازیں چلانے کی پوزیشن میں آ گیا تھا تاہم کورونا کی صورتحال کے باعث یہ کاوشیں متاثر ہوئی ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہم قومی اداروں کو نقصان سے نکالنا اور انہیں فعال و مستحکم ادارے بنانا موجودہ حکومت کے ایجنڈے کا اہم جزوہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کے اربوں روپے کے نقصان کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے لہٰذا اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے کو فعال اور منافع بخش بنانے کےلئے ضروری ہے کہ انتظامی اصلاحات تیز کرنے کے ساتھ ساتھ تمام موجود وسائل کا نہایت شفاف طریقے سے بہترین استعمال یقینی بنایا جائے۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں مفصل اور جامع حکمت عملی کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر پیش رفت کی جائے۔








