سرکاری خریداری کے عمل میں ٹینڈر اشتہار میں صراحت کے ساتھ بیان کی گئی شرائط ہی قابلِ اطلاق ہوں گی ،وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سرکاری خریداری کے عمل میں وہی شرائط قابلِ اطلاق ہوں گی جو ٹینڈر اشتہار میں صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہوں، اور کسی غیر اعلانیہ تخمینے یا معیار کی بنیاد پر بعد ازاں مالی ذمہ داری عائد کرنا قانوناً برقرار نہیں رہ سکتا۔وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ …

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سرکاری خریداری کے عمل میں وہی شرائط قابلِ اطلاق ہوں گی جو ٹینڈر اشتہار میں صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہوں، اور کسی غیر اعلانیہ تخمینے یا معیار کی بنیاد پر بعد ازاں مالی ذمہ داری عائد کرنا قانوناً برقرار نہیں رہ سکتا۔وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سی پی ایل اے نمبر 515-پی/2022 کی سماعت کے بعد درخواستِ اجازت خارج کر دی اور پشاور ہائی کورٹ، ڈی آئی خان بینچ کے 30 مارچ 2022 کے فیصلے کو برقرار رکھا۔مقدمے کے مطابق فرنٹیئر ہائی وے اتھارٹی نے 16 مئی 2011 کو پانچ پیکجز کے لیے پری کوالیفائیڈ ٹھیکیداروں سے ٹینڈرز طلب کیے۔ میسرز برادرز کنسٹرکشن اینڈ بلڈرز (بی سی بی) نے ڈی آئی خان۔چشمہ روڈ فیز ون (پیکج-I) کے لیے 138.65 ملین روپے کی تخمینہ لاگت سے 7 فیصد کم بولی دی اور 2 فیصد کے حساب سے 27 لاکھ 73 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرایا۔

بعد ازاں اتھارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ بولی انجینئر کے 143.563 ملین روپے کے تخمینے سے 22.5 فیصد کم ہے، لہٰذا 8 فیصد اضافی سکیورٹی جمع کرائی جائے۔ اضافی سکیورٹی جمع نہ ہونے پر بولی مسترد، زرِ ضمانت ضبط اور کمپنی کو چھ ماہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا گیا۔کمپنی نے یہ اقدام پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ نوٹس انوائٹنگ ٹینڈر (NIT) میں انجینئر تخمینہ ظاہر نہیں کیا گیا تھا، اس لیے بعد میں اسی بنیاد پر اضافی سکیورٹی طلب کرنا غیر قانونی ہے۔تحریری فیصلہ جسٹس ارشد حسین شاہ نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ جب انجینئر تخمینہ اشتہار میں شامل ہی نہیں تھا تو بعد ازاں اسی بنیاد پر مالی بوجھ ڈالنا شفافیت، برابری اور منصفانہ عمل کے اصولوں کے منافی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک ہی عمل میں پہلے اشتہار میں درج تخمینہ لاگت کی بنیاد پر زرِ ضمانت وصول کرنا اور بعد میں غیر ظاہر شدہ معیار لاگو کرنا قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے مقدمات حبیب اللہ انرجی لمیٹڈ بنام واپڈا (PLD 2014 SC 47) اور اسحاق خان خاکوانی بنام ریلوے بورڈ (PLD 2019 SC 602) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ سرکاری ٹھیکوں میں اشتہار شفاف، منصفانہ اور مسابقتی عمل کی بنیادی شرط ہے، اور اشتہار میں درج بنیادی شرائط میں تبدیلی بغیر نئے اشتہار کے نہیں کی جا سکتی۔مزید برآں عدالت نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے مقدمہ Monarch Infrastructure (P) Ltd. v. Commissioner, Ulhasnagar Municipal Corporation (AIR 2000 SC 2272) کا حوالہ دیتے ہوئے آبزرویشن دی کہ ٹینڈر کے قواعد کو عمل شروع ہونے کے بعد تبدیل کرنا ’’کھیل شروع ہونے کے بعد قواعد بدلنے‘‘ کے مترادف ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں، اس لیے درخواستِ اجازت مسترد کی جاتی ہے اور اپیل خارج کی جاتی ہے۔ فیصلہ 3 فروری 2026 کو اسلام آباد میں سنایا گیا اور رپورٹنگ کے لیے منظور کیا گیا۔