اسلام آباد۔ 15 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سرکاری اراضی پر ملکیت کا دعویٰ صرف میوٹیشن کے اندراج یا جرح کے دوران کسی دستاویز کے ذکر سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ بنیادی الاٹمنٹ ریکارڈ کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی زمین کو ناقص شہادت یا ماتحت اہلکاروں کی کوتاہی …
سرکاری زمین پر دعویٰ صرف میوٹیشن سے ثابت نہیں ہوتا، بنیادی الاٹمنٹ ریکارڈ پیش کرنا لازم ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 15 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سرکاری اراضی پر ملکیت کا دعویٰ صرف میوٹیشن کے اندراج یا جرح کے دوران کسی دستاویز کے ذکر سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ بنیادی الاٹمنٹ ریکارڈ کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی زمین کو ناقص شہادت یا ماتحت اہلکاروں کی کوتاہی کی بنیاد پر نجی ملکیت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس میاں گل اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سی پی ایل اے نمبر 1600-ایل/2014 کی سماعت کے بعد جاری کیا۔مقدمہ ضلع بھکر کی 66 کنال 9 مرلہ اراضی سے متعلق تھا جو چک نمبر 61 ٹی ڈی اے، تحصیل و ضلع بھکر میں واقع ہے۔
درخواست گزاروں (حکومت پنجاب بذریعہ ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو/کلکٹر بھکر و دیگر) کا مؤقف تھا کہ مذکورہ زمین تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے) کی ملکیت تھی اور سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اس کی الاٹمنٹ قانونی طور پر ممکن نہیں تھی۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ ریونیو حکام، بشمول ایڈیشنل کمشنر (ریونیو) سرگودھا اور چیف سیٹلمنٹ کمشنر لاہور کے احکامات کے تحت زمین حکومت کے نام بحال کی جا چکی تھی۔دوسری جانب مدعیان نے دعویٰ کیا کہ زمین آر ایل-ٹو نمبر 188 کے ذریعے الاٹ ہوئی، جس کے بعد میوٹیشن نمبر 1 منظور ہوئی اور بعد ازاں انہوں نے یہ اراضی خرید لی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مدعیان اپنے دعوے کی بنیاد یعنی آر ایل-ٹو نمبر 188 کو بطور بنیادی دستاویز عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ قانونِ شہادت کے تحت جو فریق کسی حق کا دعویٰ کرے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے دعوے کو قابل قبول شواہد سے ثابت کرے۔ محض جرح کے دوران کسی دستاویز کا ذکر یا میوٹیشن اندراجات ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں بن سکتے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ میوٹیشن کا اندراج بنیادی طور پر مالی مقاصد کے لیے ہوتا ہے اور یہ بذاتِ خود ملکیت پیدا یا منتقل نہیں کرتا۔ اگر میوٹیشن کو چیلنج کیا جائے تو متعلقہ فریق پر لازم ہے کہ وہ اصل لین دین یا الاٹمنٹ کو قانونی شہادت کے ذریعے ثابت کرے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سرکاری زمین کو ماتحت افسران کی غفلت، ملی بھگت یا کوتاہی کی بنیاد پر نجی افراد کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی املاک سے متعلق مقدمات میں عدالتوں کو غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے تاکہ سرکاری زمین غیر قانونی طور پر نجی ہاتھوں میں منتقل نہ ہو۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مدعیان نہ تو قانونی الاٹمنٹ ثابت کر سکے اور نہ ہی اپنی ملکیت کا درست ثبوت پیش کر سکے۔ مزید برآں عدالت نے آبزرو کیا کہ 1992 اور 1995 کے سرکاری احکامات کو چیلنج کرنے کے لیے دائر دعویٰ بظاہر میعاد کی پابندی سے بھی متصادم تھا، کیونکہ لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے تحت ایسے معاملات میں ایک سال کی مدت مقرر ہے۔عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کی درخواست منظور کر لی اور مدعیان کا دعویٰ ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔








