لاہور۔28مارچ (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیوں سے متعلق پروموشن پالیسی 2010 کی شق 21 کو قانونی قرار دے دیا اور اس کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی۔عدالت نے قرار دیا کہ ایل پی آر پر موجود افسران کو ترقی کیلئے زیر غور نہ لانا غیر قانونی اقدام نہیں ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سرکاری ملازم حفیظ الرحمان کی درخواست پر سات …
سرکاری ملازمین کی ترقیوں سے متعلق پروموشن پالیسی کیخلاف درخواست مسترد
لاہور۔28مارچ (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیوں سے متعلق پروموشن پالیسی 2010 کی شق 21 کو قانونی قرار دے دیا اور اس کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی۔عدالت نے قرار دیا کہ ایل پی آر پر موجود افسران کو ترقی کیلئے زیر غور نہ لانا غیر قانونی اقدام نہیں ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سرکاری ملازم حفیظ الرحمان کی درخواست پر سات صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ترقی کسی سرکاری ملازم کا بنیادی حق نہیں بلکہ قانون کے تحت صرف ترقی کیلئے زیر غور آنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ عدالت نے حکومتی پروموشن پالیسی کو آئین اور قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایل پی آر پر موجود افسران کو ترقی کیلئے زیر غور نہ لانا غیر قانونی نہیں ہے۔ عدالت نے فیصلے میں باور کرایا کہ ایل پی آر پر جانے والا افسر عملی طور پر فعال سروس سے الگ ہو جاتا ہے اور وہ اعلی عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا
اس لیے حکومت پالیسی کے ذریعے ترقی کیلئے اہلیت اور شرائط کا تعین کر سکتی ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار زرعی محکمہ میں سینئر سائنٹسٹ کے عہدے پر تعینات اور ریٹائرمنٹ سے قبل ایل پی آر پر چلا گیا تھا۔ درخواست گزار پرنسپل سائنٹسٹ گریڈ 19 کی ترقی کا امیدوار تھا،تاہم صوبائی سلیکشن بورڈ نے 14 مارچ 2024 کے اجلاس میں اس کا کیس مسترد کر دیا تھا۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ایل پی آر پر ہونے کے باوجود اسے ترقی کیلئے زیر غور لانے کا حکم دیا جائے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ایل پی آر اختیار کرنا درخواست گزار کا اپنا فیصلہ تھا اور ایل پی آر لینے کے بعد ترقی کا مطالبہ قانونی طور پر درست نہیں۔عدالت عالیہ نے صوبائی سلیکشن بورڈ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کرنے کا حکم دے دیا۔









